تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 272
حضرت چوہدری صاحب اپنے خود نوشت حالات قبول احمدیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے بقیه ها شیر مت رکھتے تھے۔آپ کے جد امجد راجہ فتح چند جی نے سب سے پہلے قبول اسلام کا شرف حاصل کیا۔تاریخ آئینہ اکبری میں آپ کا قابل تعریف الفاظ میں تذکرہ ملتا ہے۔راجہ فتح سنگی می صوبہ پسر دور کے گورنہ تھے آپ ہی کی اولاد میں سے سحضرت جان شهر صاحبہ اور حضرت اسماعیل صاحب جیسے اولیاء پیدا ہوئے جن کا مقبرہ کیلا سا گاؤں کے نزدیک ہے اور جن کے لڑکے عنایت اللہ خان کے نام رقصبہ تلونڈی عنایت خان آباد ہوا حضرت چو دھری محمد الدین صاحب اسی قصبہ میں شام میں پیدا ہوئے والد ماجد کانام صوبہ خیال تھا۔حضرت چوہدری صاحب کی ابتدائی تعلیم نشتارو میں شروع ہوئی آپ نے انگریزی تعلیم صرف میٹرک تک حاصل کی اور بیواری کی اسامی سے ملازمت میں قدم رکھا۔گھر اپنے خلوص محنت اور دیانتداری کے سبب بڑے بڑے عالی مراتب اور بروند مناسب تک پہنچے چنانچہ مروی تحصیلدار ڈیرہ اسماعیل خان اور انشاء میں اکٹرا اسسٹنٹ کمشنر مقرر ہوئے 19ء سے 197 ء یک دہلی میں پہلے سیٹلمنٹ افیسر بھر سے ایک 141 کیڑا اسٹنٹ کر رہے نشہداء میں نواب صاحب ریاست مالیر کوٹلر نے آپ کی خدمات حکومت سے مستعار حاصل کیں اور آپ نے ریاست میں مہم بندو بست کے فرائض نہایت کامیابی سے انجام دیئے۔ان خدمات کے علم میں ۱۹۱۸ء میں آپ کہ خان بہادر کا خطاب دیا گیا شاہ میں آپ پاکسین اور خانیوال میں سب ڈویژنل آفیسر رہے ۱۹۲۲ و میں آپ پو نچھ ریاست میں مہتم بندو بست در یو نیو آفیسر کی حیثیت میں فرائض بھالتے رہے پھر ضلع رمبنک کے ڈیٹی کمشنر مقرر ہوئے ہ میں آپ کی خدمات ریاست بہاول پور نے حاصل کریں۔آپ اپنے مختصر قیام ریاست میں ایک ایسی کی تیار کرنے میں کا میاب ہو گئے۔بنی ہیں ریاست کو ۳۸ کروڑ کا نامہ ہوتا اگر انوس یہاں آپ کو دربار ریاست کے اندرونی خلفشار اللہ انتشار کے با علیشا صرف ایک سال تک رہنے کا موقعہ میسر آیا تا ہم آپ کی خدمات جلیلہ کا اقرار اخبار پاؤنیر نے اپنی ۲۰ طوری ۱۹ ء کی اشاعت میں نمایاں طور پر کیا۔اپریل مسئلہ میں آپ ضلع شیخو پورہ میں ڈپٹی کمکہ مقررہ ہوئے اردو میں سرکار کی ملازمت سے ریٹائر ہو گئے۔آپ کی الود اسی پارٹی میں پنجاب کے گورز سر جعفری ڈی ماؤنٹ مونیس اور سردار بوٹا سنگھ پریذیڈنٹ پنجاب کونسل نے آپ کی بہت تعریف کی۔اکتوبر ۱۹ء میں آپ کو نسل آف اسٹیٹ کے عمر منتخب ہوئے ۱۳ء سے ۱۹۳۵ و یک جے پور کے پردھان منتری یعنی پرائم منسٹر رہے اور نواب کا خطاب ملا بعد میں قریباً با برس تک ریاست جودھ پور کے ریونیو منسٹر ہے۔الغرض پوری زندگی خدا وند کریم کے انعامات کا ایجاد محدود ہے گر آپ کے ماما نہ ٹھاٹھ باٹھ رہا تھا ، پارسائی اور روحانیت ہی کا درویشانہ رنگ غالب رہا۔نہایت مرنجان مریم طبیعت رکھتے تھے اور سلم و غیر مسلم سب بڑی قدر و احترام کی نظر سے دیکھتے تھے نہایت خلیق غایت درجہ حمول منصف مزاج ، راستگو غربیوں کے بعد رد و انکساری خدا ترکی اور شب بیدار اکثر بڑے بڑے مقدمات کا فیصلہ لکھنے سے پہلے بہت دعائیں کرتے تھے۔(الفضلی ۲۶ منار جولائی ۱۳۳۸ ۱۹۴۹ ملخصاً او مضمون سید علی شاہ صاحب ایس ٹی ای این ڈبلیو آر میر پور خاص بسنده ) K V01-12-