تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 256 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 256

-- کے علاوہ انعام بھی دیا جائے گا۔اس طرح ان غریب آدمیوں نے لالچ کی وجہ سے کام کیا اور ہمارے جلد کے دن گذر گئے بغرض ان تمام تکلیفوں کے باوجود ہمارے لوگوں کا بشاشت کے ساتھ وہاں بیٹھے رہنا بتاتا ہے کہ یہ حض خدا تعالیٰ کے فضل سے تھا۔پانی کے جو ہم نے نلکے لگوائے تھے وہ تمام نا کام گئے۔البتہ پانی کے لئے جو سرکاری انتظام کیا گیا تھا اس سے بہت کچھ فائدہ ہوا لیکن پانی استعمال کرنے کی ہمارے لوگوں کو یقینی عادت ہوتی ہے اتنا پانی پر بھی مہیا نہ ہوسکا۔رہائش کی یہ عادت تھی کہ جبن بارکوں میں پا ہم ہزار عورتوں کو لکھا گیا تھا ان کے متعلق دیکھنے والا یہ سلیم ہی نہیں کرتا تھا کہ ان پر کوں میں اتنی عورتیں رہ سکتی ہیں۔جین بیرکوں میں عورتوں کو ٹھہرایا گیا تھا وہ کل سولہ تھیں۔ان میں اگر لوگوں کو پاس پاس بھی سلا دیا جائے تو صرفت دو ہزار آدمی آسکتا ہے لیکن جلسہ پر جو عورتیں وہاں ٹھہری تھیں وہ ساڑھے چار ہزار کے قریب تھیں یہ اس طرح ہوا کہ انہوں نے سامان اندر رکھ دیا اور آپ باہرسو کر گزارہ کر لیا مردوں کا حال اس سے بھی برا تھا تمام مرد پارکوں کے اندر نہیں سو سکتے تھے اس لئے مردوں کو عورتوں سے زیادہ تکلیف ہوئی۔کچھ گنجائش اس طرح بھی نکل آئی کہ میری تحریک کے ماتحت بعض اپنے ساتھ بانس ، کیلے اور رستلی لے آئے اور خود خیمے لگا کر انہوں نے جلسہ کے دن گزارے مجلس خدام الاحمدیہ کی طرف سے بھی یہ تحریک کر دی گئی تھی چنانچہ میں نے جب جلد کے انتظامات دیکھنے کے لئے چکر لگایا تو بہت سے خیمے لگے ہوئے تھے میرا خیال ہے کہ وہ سو ڈیڑھ سو کے قریب ہوں گے پھر کچھ لوگ مینیوٹ ٹھہر گئے اور کچھ لوگ ہو کر ٹھہر گئے اور اس طرت گذارہ ہو گیا غرض الله تعالیٰ کے فضل سے باوجود مخالف حالات اور مختلف تکالیف اور مشکلات کے خدا تعالے کی وہ خبر جس کو میں پہلے تعبیری طور پر سمجھتا تھا عملی طور پر بھی ثابت ہوئی اور وہی جو خیال کرتے تھے کہ اس سال جلسہ سالانہ نہیں ہو سکیگا انہیں بھی اقرار کرنا پڑا کہ اس جگہ رہائش کرنے کی وجہ سے لوگوں کی صحت پر بڑا اثر نہیں پڑا بلکہ اچھا ہی پڑا ہے۔آندھیاں سارا دن چلتی رہتی تھیں اور گرد سارا دن آنکھوں میں پڑتی تھی لیکن لاہور میں میرا یہ حال تھا کہ مجھے آنکھوں میں اتنی تکلیف تھی کہ مجھے کئی بار دوائی لگوانی پڑتی تھی۔درد کی وجہ سے مجھے شبہ ہو گیا تھا کہ کہیں کوئی بیماری ہی نہ ہو۔دن میں چار پا کتنی دفعہ مجھے لوشن ڈلوانا پڑتا تھا تب جاکر کہیں میری حالت قابل برداشت ہوتی تھی لیکن ربوہ میں تو دن کے قیام ہیں مجھے صرف دو دفعہ لوشن ڈلوانا پڑا۔اور پہلے سے میری آنکھیں اچھی معلوم ہوتی تھیں حالانکہ سارا دن مٹی آنکھوں میں پڑتی رہتی تھی۔اسی طرح وہاں کے پانی کے متعلق ڈاکٹری رپورٹ یہ تھی کہ وہ زہریلا ہے اور انسان کے پینے کے ناقابل ہے لیکن ہم نے دیکھا کہ بجائے اس کے کہ وہ پانی ہم پر میرا اثر ڈالے اچھا اثر ڈالتا رہا۔وہ