تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 257 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 257

۲۴۷ بدمزہ ضرور تھا۔ایک دن ایسا ہوا کہ میں نے مقابلہ میں پانی پی لیا یعنی دوسرا اور پانی میں نے پہلے پی لیا اور پھر وہاں سے نلکوں کا پانی پی لیا نتیجہیہ ہوا کہ قریباً سوا گھنٹہ تک منہ کا ذائقہ خراب رہا۔لیکن باوجود اس کے کہ ڈاکٹری رپورٹ اس پانی کے متعلق یہ تھی کہ وہ انسان کے پینے کے قابل نہیں اس پانی نے بجائے تکلیف پہنچانے کے ہمیں فائدہ پہنچایا جب میں لاہور سے گیا میرے معدہ میں سخت تکلیف تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے میری انتڑیوں پر فالج گر رہا ہے لیکن وہاں میری طبیعت اچھی ہوگئی۔اجابت بھی اچھی ہوتی رہی۔صوفہ آخری دن اسہال آنے شروع ہو گئے اور ملین کے قریب اسہال آئے لیکن باقی دنوں میں میری طبیعت اچھی رہی۔میری بیوی ام ناصر نے بتایا کہ یہاں لاہور میں میں ایک دفعہ کھانا کھایا کرتی تھی لیکن ربوہ میں دونوں وقت کھانا کھاتی رہی۔آج لاہور آکر پھر ایک وفعہ کھانا کھا رہی ہوں۔اسی طرح کئی اور دوستوں نے بتایا کہ ربوہ کے پانی نے ان کی صحتوں پر اچھا اثر ڈالا ہے۔اور با وجود گرد و غبار اڑنے کے اُن کی آنکھوں کو آرام آگیا۔میں نے دیکھا ہے کہ یہاں واپس آکر میری آنکھوں میں پھر تکلیف شروع ہوگئی۔یہاں آکر میں دو تین دفعہ دوائی ڈلوا چکا ہوں بفرض ضد اتعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ایسے سامان کر دیئے کہ بجائے اس کے کہ اچھا کھانا نہ ملنے کی وجہ سے بہاری صحت پر کوئی برا اثر پڑتا ہماری صحت پر اچھا اثر پڑا۔بجائے اس کے کہ وہاں پانی اچھا نہ ملنے کی وجہ سے ہماری محنتوں پر برا اثر پڑتا ربوہ کے پانی نے ہماری صحتوں پر اچھا اثر ڈالا۔بجائے اس کے کہ گرد و غبار اُڑنے کی وجہ سے ہماری آنکھیں خواب ہوتیں ہماری آنکھیں پہلے سے بھی اچھی ہو گئیں۔وہاں کے قیام میں آنکھوں میں اتنی گرد پڑی کہ اگر سال بھر کی گرد کو جمع کیا جائے تو اتنی نہ ہو گی لیکن اس گرد و غبار نے بہاری آنکھوں کو اور بھی منور کر دیا۔اسی طرح روٹیوں اور سالن کے بہیا کرنے میں بہت سی مشکلات تھیں لیکن وہی روٹیاں جو کچی ہوتی تھیں بجائے اس کے کہ ہمارے معدوں کو خراب کرتیں ان کے کھانے سے ہمارے معدوں میں اور زیادہ طاقت محسوس ہونے لگ گئی۔پھر علاقہ نیا تھا۔اس وجہ سے بھی بعض دقتوں کا احتمال تھا مگر اس میں بھی خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہوا۔اور وہاں تبلیغ کثرت سے ہوئی۔قادیان کے جلسوں پر ضلع جھنگ کے صرف پھالیں پینتالیس آدمی آیا کرتے تھے لیکن اس جلسہ پر سب سے زیادہ آنے والے جھنگ کے لوگ تھے۔لجنہ اماء اللہ نے جو عورتوں کی تعداد کے متعلق ضلعوار رپورٹ دی ، اس کے مطابق جلسہ پر آنے والی ایک ہزار پندرہ عورتیں ایسی تھیں جو ضلع جھنگ سے آئی تھیں چونکہ ہم نئے نئے وہاں گئے تھے ارد گرد کے لوگوں نے ہمارے متعلق باتیں سنیں تو وہ بھلسہ پر آگئے۔اس طرح