تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 255 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 255

۲۴۵ نے اپنا خاص فضل نازل کیا اور جلسہ ہوا۔اور صرف ہوا ہی نہیں بلکہ اس کامیابی کے ساتھ ہوا کہ لوگ حیران رہ گئے۔چنانچہ اتنے لوگوں کا وہاں آجانا تو حسن ظن کے ماتھے۔بھی ہو سکتا ہے لیکن جو تکلیفیں اور مشکلات وہاں تھیں ان کے باوجود لوگوں کا دہاں رہنا اور ان کو خوشی سے برداشت کرنا یہ ایسی چیز تھی جو تائید الہی کے بغیر نہیں ہوسکتی تھی۔مثلاً پہلے ہی دن سوا دو بجے رات تک بہت سے لوگ ایسے تھے جنہیں کھانا نہیں ملا تھا۔مجھے ساڑھے بارہ بجے کے بعد یہ آواز میں آنی شروع ہوگئیں کہ ٹھہرو ابھی کھانا دیتے ہیں، ٹھہرو ابھی کھانا دیتے ہیں یہیں نے ایک آدمی لنگر خانے بھجوایا اور اس طرح مجھے علوم ہوا کہ روٹیاں بھی پہنچی ہی نہیں۔کچھ روٹیاں پہنچی ہیں لیکن وہ بہت تھوڑے لوگوں کو مل سکی ہیں لیکن خود وہاں گیا اور نگر خانہ کے کارکنوں سے پوچھا کہ روٹی کا بھیم انک کیوں انتظام نہیں ہو سکا۔اس پر مجھے بتایا گیا کہ ہماری تمام کوششیں بالکل نا کام ہو چکی ہیں۔اس میں کچھ منتظمین کا بھی تصور تھا کیونکہ مجھے بتایا گیا تھا کہ اس دفعہ ساٹھ تندور لگائے جائینگے لیکن بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ صرف چالیس تندور لگائے گئے ہیں بڑال چونکہ عام طور پر یہ خیال تھا کہ طلب پر بہت کم لوگ آئیں گے اس لئے تندور کم لگائے گئے۔باورچی بھی کم تھے۔نتیجہ یہ ہو کہ کام کا بوجھ زیادہ پڑا گرمی کا موسم تھا جو شیڈ بنائے گئے تھے وہ کم تھے۔پھر ایک طرف دیوار کھینچی ہوئی تھی جس کی وجہ سے ہوا نہیں آتی تھی نتیجہ یہ ہوا کہ ؟ با دری بیہوش ہوگئے ان کو دیکھ کر باقی باورچیوں نے کام چھوڑ دیا اور کہہ دیا کہ ہم اپنی جان کو مصیبت میں کیوں ڈالیں۔اس وجہ سے ۹-۱۰ بجے تک روٹی کا کوئی انتظام نہ ہو سکا بلکہ اس وقت تک ان کو کام کرنے کی طرف کوئی رغبت ہی نہ تھی تھوڑے سے چاول ابالے گئے اور وہ صرف بچوں کو دینے گئے پھر جوں توں کر کے روٹی کا انتظام کیا گیا اور صبح کے پانچ بجے تک روٹی تقسیم ہوتی رہی اور وہ بھی بہت تھوڑی تھوڑی بھالانکہ بعض لوگ ایسے بھی تھے کہ جنہیں دو پہر کو بھی کھانا نہیں ملا تھا اور وہ رات بھی انہوں نے بغیر کھائے کے گزار دی مگر جاے اس کے کہ ان کی طبائع میں شکوہ پیدا ہوتا انہوں نے اس تکلیف کو بخوشی برداشت کیا، پھر دوسرا دن بھی اسی طرح گذرا۔دوسرے دن بھی کھانا تیار کروانے کی بظاہر کوئی صورت نہیں بنتی۔آستر میں نے افسروں کو سرزنش کی اور انہیں مختلف تدابیر بتائیں، اپنے بیٹوں کو اس کام پر لگایا اور بار آخر بعض ایسی تدابیریاں لی گئیں جن کے ذریعہ اگر پیٹ بھر کر نہیں تو کچھ نہ کچھ کھانا ضرور مل گیا مثلاً ہمارے ملک میں ایک آدمی کی عام غذا تین روٹی ہے لیکن میں نے یہ فیصلہ کیا کہ بجائے تین تین روٹی کے دو دو روٹیاں دی تھیں پھر یہ تدبیر بھی اختیار کی گئی کہ نا نہائیوں سے ٹھیکہ کر لیا گیا کہ اگر وہ اتنا کھانا تیار کر دیں تو انہیں مزدوری