تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 238
پاس آئی ہے اس نے میرا نام لیا اور کہا تیار ہو جاؤ پر سعول محنت کے اندار ہے تہا ہے لئے کھول لئیے جائیں گے۔فریز کیا تم نے یہ نہیں سنا کہ جہاد آج اسلام کو یہاں پہنچے جائے گا۔اور اگر جہاز آج یہاں پہنچ جائے تو کیا کل مجھے سزا دے دی جائے گی لیکن فرشتے نے مجھے کہا ہے کہ رسول تمہارے لئے جنت کے اندازے کھ لے جائیں گے اس لئے جہانہ آج نہیں آسے بھی کل آئے گا۔اور پھر یوں مجھے نار دیا جائے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ایک طوفان آیا اور جہاز کور میں ٹھہر نا پڑا۔اور وہ سرے دن وہ اس شہر میں پہنچ سکا اور تیسرے دن وہ مارے گئے۔خندم آپ کی بات سننے کے بعد اُس شاگرد نے کیا آپ کیوں مند کر رہے ہیں۔کیا آپ کو ہم پر رجسم نہیں آ نا اگر آپ نہ ندہ رہیں گے تو میں آپ سے بہت فوائد اصل ہوں گے۔اگر آپ یہاں سے بھاگ جائیں اور کسی اور حکومت کے ندی سایہ این کشور و نا کہ دو یہ تو کیا ہی اچھا ہو۔سقراط نے میں اس ملک سے کسی طرح بھاگ سکتا ہوں کیا میں عورتوں کا لباس پہن کر یہاں سے بھاگ جاؤں۔اگس میں عورتوں کا لباس پہن کر یہاں سے بھاگ جاؤں تو لوگ کہیں گے سقراط محور تو کا لباس پہن کہ بھاگ گیا یا پھر میں جانوروں کی کھال میں لپیٹ کر یہاں سے بھاگ جاؤں یہ کیا اس سے دیہی عزت ہوگی؟ فریتو نے کہا میرے آقا یہ ٹھیک ہے لیکن لیکن ہم ان چیزوں کے بغیر آپ کو نکالیں گے۔میں ایک مالدار آدمی ہوں اور نوی افسر میرے تابع ہویا۔میں نے ان سے یہ فیصلہ کہ ٹیلہ ہے کہ وہ میری اس بارہ میں مدد کر نیا گئے۔اور آپ کو عزت کے ساتھ کسی اور ملک میں چھوڑ آئیں گے۔جن میں سے اُس نے کو بیٹے کا نام بھی لیا میسقراط نے کہا پھر تم جانتے ہو کیا ہوگا ایک بھاری رستم بطور تاوان دالی جائے گی اور جب ایک ہوگا تو فر تویہ تم ہی بتاؤ کہا یہ اچھی بات ہو گیا کہ میں اپنی جان بچانے کے لئے اپنے ایک شاگرد کو تباہ کر دوں فر تو نے کہا میرے آقا آپ اس کا خیال نہ کریں۔آپ کے شاگرد بہت سے ہیں اور به رستم سهم آپس میرا تیکه در سری تقسیم کریں گے سقراط نے کہا بالکل ٹھیک ہے لیکن جب حکومت کو پتہ چلا تو وہ سب کو قید کرے گی۔فریق نے کہا ہاں آتا مگر