تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 237 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 237

۲۲۷ دیکھنے کے لئے آیا ہوں آپ نے کہا تم اتنی جلدی صبح صبح کس طرح آگئے ! فریو نے کہا جیل کے افسر میرے دوست ہیں۔اس لئے اللہ آنے کی مجھے اجازت مل گئی ہے۔میں آپ سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا معلوم ہوتا ہے تم بہت ہیں سے یہاں بیٹھے بور تم نے مجھے جگایا کیوں نہیں فر تو نے کہا اس جیب کرتے ہیں داخل ہوا تو آپ سوئے ہوٹے تھے اور آپ کے چہرے پر مسکراہٹ کھیلی رہی تھی اس لئے میں نے آپ کو جگا یا نہیں بلکہ آپ کے پاس بیٹھ کر آپ کے چہرے کو دیکھتا رہا۔اس بات کا تجہ پر گہرا اثر تھا کہ وہ شخص جس کی موت کا حکم سنایا گیا ہو کیس اطمینان اور سکون سے سویا ہوا سفر ما نے کہا میاں کیا خدا تعالے کی مرضی کو کوئی انسان دور کر سکتا ہے، فریقی نے کہا نہیں۔سقراط نے کہا کیا تم اس کی مرضی پر خوشی نہیں ! فریق نے کہا ہاں ہم اس کی مرضی پر خوش ہیں بسقراط نے کہا جب خدا تعالے نے میرے لئے محبت کو مقدر کیا ہے تو اس کو کون بٹا سکتا ہے ؟ اور جب خدا تعالے نے بھی میرے لئے موت مقدر کی ہے اور میں اس کی رضا پر راضی ہوں تو پھر اس پر بے چینی کی کیا وجہ ؟ مجھے تو خوش ہونا چا ہیے کہ میرے خدا کی یہ مرضی ہے کہ وہ مجھے موت دے از تو تم بتاؤ کہ ایس وقت تم مجھے کیا کہنے آئے تھے فریقین نے جواب دیا میرے آقا میں آپ کو ایک بڑی خبر دینے آیا تھا کہ وہ جہا ز جن کی آمد کے دوسرے بون آپ کو زہر پلائے جانے کا فیصد ہے وہ گو ابھی تک پہنچا تو نہیں لیکن خیال رہے کہ آج شام کو پہنچ جائے کا اس لئے کل آپ کو مار دیا بہائے تھا اسی کو سقراط ہنس پڑے اور کہا کہ میرا تو خیال نہیں کہ وہ جہاد آج پینے کا یہاں پہنچے گا فریت نے کہا وہ جہان خلال جگہ پر لگا تھا ہے اور ایک آدمی خشکی کے ذریعہ یہاں آیا ہے اور اس نے بتایا ہے کہ وہ جہانہ آج شام ملک یہاں پہنچ جائے گا۔کل کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سقراط نے کہا فر تو بے شک اس شخص نے یہ بتایا ہے کہ جہان آج شام تک نہیں پہنچ جائے گا لیکن جب خدا تعالے نے جایا ہے۔کہ وہ جہانہ کھل یہاں پہنچے گا تو دی بھی ہوگا۔فرید نے کہا۔میرے آقا آپ کو کیسے علم ہوا کہ وہ جہاد کل یہاں پہنچے گا۔سقراط نے کہا میں نے خواب میں دیکھنا ہے کہ ایک خوبصورت عورت۔