تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 239
۲۲۹ مدت کے بعد نہیں چھوڑ دے گی۔سقراط نے کہا مگر کیا یہ اچھی بات ہوگی که میں اپنی جان بچانے کے لئے اپنے شاگردوں کو قید خانہ میں ڈلواؤں۔فریقی نے کہا اگر آت آپ سو چھٹے آپ روحانیت کی تعلیم دیں گے اور لوگوں کو خدا تو نے کی طرف لائیں گے۔یہ کتنا بڑا کام ہے اس کے لئے اگر ہم قید میں بھی گئے تو کیا ہوا سقراط نے کہا یہ بات ٹھیک ہے اور شاید یہ بات سوچنے کے قابل ہو۔مگر فریقوئیں جو ۸۵ سال کا ہوگیا ہوں اگر کسی ملک میں جاتے ہوئے راستہ ہیں مر جاؤں تو مجھے کرنا عقلمند کہے گا کہ میں نے یونہی مضمعہ میں تباہی ڈال دی۔پھر انہوں نے کہا اے میرے شاگر د تم بتاؤ تو سہی میں تمہیں اس حکومت کے بارہ میں حسن کے تہمت تم رہتے ہو یا تعلیم دیا کرتا تھا ، فریتو نے کہا آپ نہیں کہی تعلیم دیا کرتے تھے کہ اس حکومت کا ہمیشہ فرما نبردار رہنا چاہئیے۔سقراط نے کہا اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس چیز کی ساری عمر تعلیم دیتا رہا۔اب اگر میں موت کے ڈر سے اس ملک سے بھاگ جاؤں تو دومین یہی کہے گی نہ کہ ہمیں یہاں کی زندگی میں جھوٹے دعوت کیا کرتا تھا پھر یا بتاؤ کہ کیا حکومت ظالم ہے۔جس کی وجہ سے ہمیں اس ملک سے نکالنا ا۔اس کے قانون کو توڑنا جائز ہے دنیا کی کوئی حکو مستند اپنے آپ کو ظالم نہیں کہتی۔اگر کہا یہاں سے پوشیدہ کسی اور ملک میں بھاگ جاؤں تو یہ کیا بات دوسروں یہ کیا اڑ کر لے گی۔ہر ایک یہی کہے گا کہ یہ تو وہی بات ہے جس پر اُس نے خود عمل نہیں کیا۔میں اس حکومت میں پیدا تھا اور دیوے کے بعد چالیس سال کے اس لک میں ہم کیا چالیس سال کے عرصہ میں میرے لئے اس ملک کو چھو نہ جانے کا مو قعر ز تھا۔حکومت یہ کہے گی کہ اگر ہم ظالم تھے تو یہ چالیس سال کے اواران میں کیوں با سر نہیں بھلا گیا۔بلکہ یہ تو بجھا کہ سے الصاحت کا اتن قائل تھا کہ ہر شہر سے باہر بھی نہیں نکلتا تھا۔میں ان باتوں کا کیا جواب دوں گا۔عرض اس نے ایک طر حکایت کے بعد کہا۔خلاصہ یہ ہے کہ کچھی نہیں رہیں کار اور حکومت کے مقابلہ کے لئے تیار نہیں ہوں گا۔۔جیسا کہ میں نے بنایا ہے مسقراط کا یہ دعوتنا تھا کہ اسے الہام ہوتا ہے اور ہوں نے اپنے الہام کی ایک وین صورت کو پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جہاز آج