تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 220 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 220

۲۶۱۳ جنہیں لوگ دیکھیں اور جہاں لوگ اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کے ذکر اور اس کے نام کی بلندی کے لئے وقف کر دیں۔انسان کو یہ کبھی خیال نہیں آتا کہ میں اپنے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو لاکر بٹھاؤں تا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونہ اور تصویر کو دیکھ کر اور لوگ بھی محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا اظل بننے کی کوشش کریں بحالانکہ اگر دنیا میں ہر جگہ خانہ کعبہ کے ظل اور اس کی نقلیں نہ ہوں ، اگر دنیا میں ہر جگہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طل اور آپ کی نقلیں نہ ہوں تو وہ دنیا ہر گنہ رہنے کے قابل نہیں۔دنیا تبھی بچ سکتی ہے ، دنیا تبھی زندہ رہ سکتی ہے ، دنیا تھی ترقی کر سکتی ہے جب ہر ملک کے لوگ تھانہ کعبہ کی نقل میں ایسی جگہیں بنائیں جہاں لوگ اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کر دیں اور انسان کوشش کرے کہ ہر خطر زمین پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھلتے ہوئے نظر آئیں۔بہر حال یہ دعائیں ہیں جو خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے مانگیں۔میں اس وقت اسی پر نہیں کرتا ہوں۔اگر میری تقریر کے لمبا ہو جانے کی وجہ سے بعض تقریریں ضائع ہوگئی ہیں تو بیشک ہو جائیں۔ہمارا مقصد اس جلسہ میں تقریریں کرتا نہیں بلکہ مٹھائیں کو گئے اس مقام کو با برکت بناتا ہے۔میں نے دعائیں سکھا دی ہیں۔یوں انسان کے ذہن میں دعائیں نہیں آتیں۔مگر نبیوں کے ذہن میں جو دعائیں آتی ہیں وہ نہایت کامل ہوتی ھیں۔خدا تعالیٰ کے نبی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کے دل میں ایسے وقت میں جو خیالات آئے اور جو کچھ ان مقدس مقامات کے فرائض اور ذمہ داریاں ہیں اور کامیابی کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ کے جن فصلوں کی ضرورت ہے ان تمام چیزوں کو آپ نے اللہ تعالے سے مانگا ہے اور اب آپ سب لوگ میرے ساتھ مل کر دعا کریں۔یہ زمین ابھی ہمیں پورے طور پر ملی نہیں۔ہم تفاؤل کے طور پر اسے اپنا مرکز بناتے ہیں اور دعاؤں کے ساتھ اسے اپنا مذہبی مقدس مقام قرار دیتے ہیں۔اس کے بعد ہمارا فرض ہو گا کہ ہم اس مقام کو ہمیشہ اپنے ہاتھ میں رکھنے کی کوشش کریں اور ہمیشہ دین اسلام کی خدمت اور خدا تعالیٰ کے نام کی بلندی کے لئے اسے استعمال کرنے کی کوشش کریں۔پس آؤ جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لے گئے تو آپ نے