تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 219 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 219

۲۱۲ سکھا کہ اُن کے قلوب کو بھی محبت الہی سے بھر دے یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ میں جذب کر دیں۔انہی صفات ان میں پیدا ہو جائیں اور وہ پھلتے ہوئے انسان نظر نہ آئیں بلکہ خدا نمائی کا ایک آئینہ دکھائی دیں۔إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيم - اے ہمارے رب ! ہم نے جو چیز مانگی ہے بہ ظاہر یہ نامکن نظر آتی ہے اور جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ایسا کبھی نہیں ہوا لیکن ہم خوب جانتے ہیں کہ تجھے میں طاقت ہے تو عزیز خدا ہے تو غالب خدا ہے اور تیری شان یہ ہے جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے شت ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ تو ایسا کر سکتا ہے۔انك انت الْعَزِيزُ الحَکیمُ۔چونکہ تو عزیز خدا ہے اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ ایسا رسول آئے۔اس پہ اعتراض ہو سکتا تھا کہ اگر پہلے خدا نے ایسا رسول نہیں بھیجا تو اب کیوں بھیجے ؟ اور اگر پہلے بھی ایسا رسول بھیجنا ضروری تھا تو پھر ایسے رسول کو نہ بھیجا کہ بنی نوع انسان پر کیوں ظلم کیا گیا ؟ اس اعتراض کا اتحکیم کہہ کر ازالہ کر دیا کہ ہم جانتے ہیں پہلے ایسا رسول آہی نہیں سکتا تھا۔پہلے لوگ اس قابل ہی نہیں تھے کہ محمدی تعلیم کو بربریت کر سکیں۔پس ایک طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عزیز کہہ کر مقدائی غیرت کو جوش دلایا ہے اور کہا ہے کہ ہمارا مطالبہ غیر معقول نہیں ہم جانتے ہیں کہ تو ایسا کر سکتا ہے مگر تھے ہی تحکیم کہہ کر بتا دیا کہ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ اگر پہلے تو نے ایسا رسول نہیں بھیجوایا تو نعوذ باللہ تو نے مخل سے کام نیا ہے۔بلکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر پہلے تو نے ایسا نبی نہیں بھیجا تو صرف اس لئے کہ پہلے ایسا نبی بھیجنا مناسب نہیں تھا۔یہ کیسی کا مل دُعا ہے جو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے بلند مقام اور آپ کے بلند ترین مدارج کو واضح کرنے والی ہے۔مگر میں پھر کہتا ہوں۔دنیا دوسری چیزوں کی نقلیں کرتی ہے۔دنیا چاہتی ہے کہ اگر اسے اچھی تصویریں نظر آئیں تو اُن کو اپنے گھروں میں لے جائے وہ خوشنما اور خوبصورت مناظر دیکھتی ہے تو اُن کے نقشے اپنے گھروں میں رکھتی۔مگر انسان کو یہ کبھی خیال نہیں آتا کہ وہ خانہ کعبہ کی بھی نفلیں بنائے