تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 152
سوئٹرز لینڈ اور سپین میں اسلام کی تبلیغ آئندہ تقاریر اور لٹریچر کے ذریعہ زیادہ زور شور سے کی جائے گی۔جرمنی میں اسلام کی کامیابی کا میدان زیادہ وسیع ہے۔چند سال کے اندر اندر ہمبرگ میں مسجد بھی تعمیر کی جائے گی۔ان واقعات سے ہمیں آنکھیں بند نہیں کرنی چاہئیں۔ویسے اس بارہ میں احتجاج بلند کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔اسلام گذشتہ تیرہ صدیوں میں اتحاد باہمی اور موثر اشاعت کے ذریعہ اپنے آپ کو ایک عالمی طاقت ثابت کر چکا ہے۔ان حالات میں عیسائی دنیا کو ایک بہت بڑا اور مشکل ترین مرحلہ درپیش ہے “ لے سالار حضرت مصلح موعود کا جرمنی میں ورود جرمن مشن کی تاریخ میں وسط ریش کا دور ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔کیونکہ اس میں حضرت موعود حضور کا ایمان افروز خطاب اور دوسری مصلح موعود نے سفر جو منی اختیار فرمایا۔اور ۲۵ تا ۲۹ ماه اہم دینی مصروفیات احسان جون تک اس ملک میں رونق افروز رہے۔دوران قیام ۲۶ ماہ احسان کو ڈاکٹر ٹاک حضور کے دست مبارک پر بیعت کر کے مشرف بہ اسلام ہوئے چین کا اسلامی نام حضور نے زیر تجویز فرمایا۔بعد ازاں ہمبرگ کے ایک نامور حجر من مستشرق ڈاکٹر ملاقات کے لئے حاضر ہوئے حضور ان سے عربی میں گفتگو فرماتے رہے۔·ABEL اسی روز حضور کے اعزاز میں بارہ بجے شام جماعت احمدیہ ہمبرگ نے ایک استقبالیہ تقریب کا انتظام کیا جس میں احمدیوں کے علاوہ دیگر معززین اور نمائندگان پریس نے بھی شرکت کی۔عبد الکریم صاحب ڈنکر نے حضور کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا جس کے جواب میں حضور نے کھڑے ہو کر ایک خالص ولولہ اور روحانی کیفیت کے ساتھ نصف گھنٹہ تک تقریر انگریزی میں فرمائی جس میں پہلے تو احمدی احباب کا شکریہ ادا کیا اور اس کے بعد ربوہ مرکز احمدیت کی تعمیر کی تفاصیل بیان فرمائیں۔اور پھر فرمایا کہ جرمن قوم کا کیریکٹر بلند ہے اور انہوں نے ہمبرگ شہر کو اتنی جلد تعمیر کر لیا ہے۔حضور نے فرمایا کہ جرمن قوم اس زندہ روح کے ساتھ ضرور جلد از جلد اسلام کو جو خود اسی روح کو بلند کرنے کے لئے تعلیم دیتا ہے قبول کرے گی حضور نے فرمایا کہ میں اس نبی صلے اللہ علیہ وسلم کا پیرو کار ہوں میں نے دنیا میں امن اور رواداری کو قائم کرنے کی پوری کوشش کی اور اپنے مخالفین جنہوں نے مسلمانوں کو تہ و تیغ کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت الفضل در صلح جنوری ۱۳۳۳ همین صفحه ۱ ۰ 1 19۔00