تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 150
۱۴۴ ریٹیکل WELFARE OF THE HUMAN ANCE کے لحاظ سے نہایت اعلیٰ درجہ کی ہے لازماً ایک احمد ہی اس کی نقل کرنے پر مجبور ہوگا اور اسے دیکھ کر دوسرے مسلمانوں کا بھی ایک حصہ۔پس دنیا میں وہ اعلی درجہ کی قدیم پھر قائم ہو جائے گی جس کو اسلام دنیا کے فائدہ کے لئے لایا تھا۔مثلاً موٹی مثال یہ لیجئے کہ انگلیت کے نزدیک قرآنی تعلیم یہ ہے کہ کسی کو کسی عقیدہ کے ماننے پر مجبور نہ کیا جائے اور ہر انسان کو کوئی بات اپنے ماں باپ سے سون کر نہیں ماننی چاہیے بلکہ دلیل کے ذریعہ مانتی چاہیئے جب مسلمانوں کی تقویت عملی مرگئی اور تبلیغ کی مشکلات برداشت کرنے کی طاقت ان میں نہ رہی تو انہوں نے اس اسلامی تقسیم کو بدل کر ی تعلیم بنائی کہ غیرمسلم کو زبردستی مسلمان بنانا جائز ہے اور اگر کوئی مسلمان اپنا عقیہ ہرہ چھوڑ دے تو اس کو قتل کر دینا ضروری ہے۔اس طرح انہوں نے سمجھا کہ ایک طرف تو اسلام بالکل محفوظ ہو گیا اب اس میں سے کوئی شخص یا ہر نہیں جائے گا۔دوسری طرف بغیر تبلیغ کی مشکلات برداشت کرنے کے ہم کبھی کبھار غیر مسلموں کو مسلمان بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔لیکن را تما سے ایک طرف تو مسلمانوں کا مذہب عقل اور محبت کا مذہب نہ رہا بلکہ ڈر اور بیوقوفی کا مذہب ہو گیا۔دوسری طرف غیر تو ہوں اور مسلمانوں کے تعلقات بگڑ گئے۔اب احمدیت نے اس تعلیم کو درست کیا ہے جب غیر قوموں کو معلوم ہو گا کہ اسلام تبلیغ اور لائل کے ذریعہ سے سچائی کو پیش کرتا ہے اور تمام اقوام کو اپنا بھائی قرار دیتا ہے، تو یقیناً پولیٹکل تعلقات اور سوشل تعلقات اچھے ہو جائیں گے اور تلوار سے مسلمان بنانے کی بجلہ مے مسلمان تبلیغی بعد و جہد کرے گا اور اس میں قربانی اور ایثار اور سہر کا مادہ پیدا ہوگا اور ہر مسلمان جب یہ جھینگا کہ میں آزادی سے اپنے متعلق فیصلہ کر سکتا ہوں تو یہاں، وہ غیر مذاہب سے متعلق تحقیقات کریگا وہاں وہ اپنے مذہب کے متدان کسی تحقیقات کرے گا اور آئندہ وہ ورثہ کا مسلمان نہیں ہو گا بلکہ ایک محقق کی حیثیت پیدا کر لے گا اور نہ صرف اس کا اپنا مذہب مضبوط ہوگا بلکہ وہ انسانی سوسائٹی کا نہایت مفید اور کار آمد ویبود ہو جائے گا۔میں اس مضمون کے متفق زیادہ تفصیل سے نہیں لکھتا اس لئے کہ میں بتا چکا ہوں کہ احمدیت کوئی نیا مذہب نہیں ہے۔اس بارہ ہیں جو اسلام کی تعلیم ہے وہی احمدیت کی تعلیم