تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 149
۱۳ STATISTies کی کتاب نہیں ہے۔لیکن جب وہ کہتا ہے کہ ہر قوم میں نہیں آئے تو جو لوگ اُن قوموں میں ایسے پائے جاتے ہیں جن پر نبیوں کے حالات صادق آتے ہیں۔کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان کی نبوت کا اقرار نہ کریں۔تیسرا سوال آپ کا یہ ہے کہ مذاہب کے لئے احمدیت کیا اہمیت رکھتی ہے اور سوشل لحاظ سے اور پولیٹیکل لحاظ سے وہ بنی نوع انسان کو کیا فائدہ بخشتی ہے ؟ اس سوال کا اصل جواب تو یہ ہے کہ احمدیت کوئی نیا مذہب نہیں ہے جیسا کہ اوپر بتا یا جا چکا ہے وہ TRUE اسلام ہے اس لئے سوشل اور پولیٹیکل WELFARE کے لحاظ سے جو اسلام دنیا کو فائدہ بخش سکتا ہے وہی فائدہ احمدیت دنیا کو بخشتی ہے PRACTICALLY یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اسلام کی تعلیم ان دونوں امور کے لئے ایک DEAD LETTER کے طور پر ہو چکی تھی۔مسلمان ایک لمبے عرصہ کی کامیابیوں کے بعد مختلف قسم کی خرابیوں میں مبتلا ہو گئے تھے اور چونکہ وہ مذہبی آدمی تھے ان کی کانشنس اُن کو ملزم کرتی رہتی تھی اور کانشنس کے الزام کو انسان زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتا۔اس لئے اُن کے لئے وہی رستے کھلے رہ گئے تھے۔یا تو وہ اپنی بداعمالیوں کو چھوڑ کر صحیح اسلامی تعلیم کی طرف واپس آجاتے تب ان کی کانشنس ان کو الزام دینا چھوڑ دیتی مگر وہ اتنے مست ہو چکے تھے اور صحیح عمل سے اتنے دور ہو چکے تھے کہ وہ اس بات کو نا ممکن پاتے تھے۔دوسرا راستہ ان کے لئے یہ کھلا تھا کہ وہ مذہب کی تشریح ایسے سنگ میں کر دیں کہ وہ ان کی بد اعمالیوں کو جائز قرار دے دے اور ان کی موجودہ سالت کو عین مذہبی حالت بتا دے۔اگر ایسا ہو جاتا تو پھر بھی وہ ضمیر کی ملامت سے بچ کھاتے تھے۔یہ رستہ زیادہ آسان تھا انہوں نے اس رستہ کو قبول کر لیا۔احمدیت نے آکر پھر صحیح اسلامی تعلیم دنیا کے سامنے پیش کر دی اور ضمیر کو اُن قیدوں سے آزاد کر دیا جو کہ گذشتہ صدیوں میں اس کے اُوپر لگا دی گئی تھیں۔اب وہ پھر زندہ ہو گی اور ادھر اسلام کی تعلیم زندہ ہوگی۔نتیجہ یہ ہوگا کہ ضمیر اور عمل کی وہ سعید و جہد جو قوموں کو ہمیشہ راہ راست پر قائم رکھتی ہے احمدیت کی وجہ سے پھر بھاری ہو جائے گی۔اور چونکہ اسلامی تعلیم سوشل اور