تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 147
اور وہ اس تعلیم کی وجہ سے بھی احمدیوں کو اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔لیکن جیسا کہ بتایا جائیگا ید ان کی غلطی ہے۔در حقیقت، ان کا اپنا عقیدہ اسلام سے تاریخ ہے۔یہاں تک ابراہیم موسی اور عیسی کا سوال ہے ان کے متعلق سب مسلمان متفق ہیں کیونکہ ان تینوں نبیوں کا نام قرآن کریم میں آیا ہے اور ان کی نبوت کا اقرار کیا گیا ہے حضرت مسیح کے متعلق احمدیت کو غیر احمدی مسلمانوں سے اتنا اختلاف ہے کہ احمدی عقیدہ کے مطابق قرآن کریم سے ثابت ہے کہ حضرت علی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں (سورہ مائدہ آیت ۱۱۷ و آل عمران آیت ۵۵ و فساد آیت ۱۵۰) لیکن غیر احمدیوں کے نزدیک حضرت مسیح آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور اب تک زندہ ہیں۔یہ عقیدہ عیسائیوں والا عقیدہ نہیں کیونکہ عیسائیوں کے نزدیک مسیح صلیب پر چڑھائے گئے اور اس پر فوت ہو گئے اور پھر زندہ کئے گئے مسلمان اس کو نہیں مانتے۔وہ یہ کہتے ہیں کہ جب میسج کو صلیب پر پڑھانے کے لئے یہودی اور گورنمنٹ کی پولیس پکڑنے کے لئے گئی تو خدا تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا اور یہودا اسکر یوطی کہ یا کسی اور یہودی کو راس میں اُن کے اندر اختلاف ہے، بیٹے کی شکل دے دی گئی اور پولیس اور بیہودیوں نے اس شخص کو میسج سمجھ کر صلیب پر لٹکا دیا اور وہ اس پر مر گیا۔احمد یہ عقیدہ یہ ہے کہ مسیح صلیب پر لٹکایا گیا لیکن قرآن کریم کے رُو سے وہ سلیب پر مرا نہیں اور انجیل کے رُو سے وہ صلیب پر سے زندہ اتار لیا گیا جب کہ صلیبی واقعات سے اور نیزہ مارنے کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کیونکہ نیزہ مارنے پر ستیان خون نکلا ہے۔مردے میں سے خون نہیں نکلا کرتا، گوہ انجیل نے اسکی خون اور پانی کہ لفظ سے بیان کیا ہے مگر خون اور پانی الگ الگ تو نکلا نہیں کرتے۔در حقیقت ستیال خون کو ہی خوان اور پانی کے لفظوں سے بیان کیا گیا ہے اور یہ ہمیشہ زندوں میں سے شکلا کرتا ہے۔اسی طرح خود مسیح نے اپنے متعلق جو پیشگوئیاں کی ہیں ان سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہی صلیب سے اتارا گیا اور زندہ ہی قبر میں رکھا گیا۔کیونکہ اس نے اپنے صلیب کے واقعہ کو یونس نبی کے مچھلی کے پیٹ میں جانیے والے واقعہ کے مشابہہ قرار دیا ہے۔اور یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں زندہ ہی گیا تھا اور زندہ ہی نکلا تھا۔پیس اس پیشگوئی کے مطابق مستے بھی زندہ ہی قبر میں داخل ہوا اور زندہ ہی نکلا۔اسی طرح ►