تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 148 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 148

: ۱۴۲ صاف لکھا ہے کہ مسیح نے تھوما کو کہا کہ میرے زخموں میں انگلیاں ڈال میسیجیوں کے عقیدہ کے مطابق میسج کا جسم تو انسان کا جسم تھا وہ آسمان پر نہیں گیا نہ وہ آسمان سے آیا تھا اور صلیب جسم کو دی گئی تھی نہ کہ رُوح کو۔پس زخموں کا موجود ہونا اور تھوما سے اس میں انگلیاں ڈلوانا بتاتا ہے کہ میسج اسی حیثیت سے دنیا میں موجود تھا میں حیثیت سے وہ صلیب سے پہلے تھا۔صرف صلیب سے زخم اس پر آگئے تھے۔اسی طرح لکھا ہے کہ مسیح کہتا ہے کہ میں بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کو جمع کرنے کے لئے آیا ہوں۔لیکن صلیب سے پہلے تو مسیح کو گمشدہ بھیڑوں تک جانے میں کبھی موقع ہی نہیں ملا۔پس یقیناً وہ صلیب سے زندہ اتارا گیا اور پھر گمشدہ بھیڑوں کی طرف یعنی ایران، افغانستان اور کشمیر کی طرف گیا جیسا کہ تاریخ سے ثابت بھی ہے۔اس کے متعلق آپ بانی سلسلہ احمدیہ کی کتاب " مسیح ہندوستان میں " پڑھیں یا سلسلہ کے مبلغ مولوی جلال الدین صاحب شمس کی کتاب " WERE DID JESUS DIE ' رکھیں۔"؟ مجرہ اور زرتشت کے متعلق دوسرے مسلمانوں کا خیال یہی ہے کہ وہ جھوٹے تھے مگر احمدیت کہتی ہے کہ وہ بھی سچے نبی تھے کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالے صاف فرماتا ہے وان مِنْ أُمَّةِ الأَخَلَا فِيهَا نَدِ بُرُ (سوره فاطر آیت ۲۴) کوئی قوم دنیا میں ایسی نہیں۔جس میں نبی نہ آئے ہوں۔یہی عقیدہ عقل کے مطابق ہے اور جب قرآن مانتا ہے کہ کئی قوموں کے نبیوں کا اُس نے ذکر نہیں کیا لیکن آئے وہ ضرور ہیں۔اور جب ہمیں نظر آتا ہے کہ مختلف ملکوں میں ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے نہایت اعلیٰ درجہ کی تعلیم دی ہے اور باوجود اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کے اللہ تعالیٰ نے انہیں تباہ نہیں کیا اور بڑی بڑی جماعتیں اُن کے ذریعہ قائم ہوئی ہیں سمان تکہ بائیبل اور قرآن کے رو سے جھوٹے ینی کامیاب نہیں ہوتے بلکہ تباہ کئے جاتے ہیں تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ یہ لوگ نبی تھے۔اور اگر ہم اُن کو نبی نہ مانیں تو قرآن کریم کا یہ دعوئی چھوٹا ہوتا ہے کہ ہر قوم میں نبی آئے تھے۔غیر احمدی کہتے ہیں کہ قرآن کریم نے نام نہیں لیا۔ہم کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے قرآن نے نام نہیں لیا اور نہ وہ دنیا کے سارے نبیوں کا نام لے سکتا تھا۔۔وہ کوئی