تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 146
سے اس میں فلاں فلاں تبدیلی پسند کرتا ہوں۔اس تشریح سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اسلام کی اس تعلیم کے بموجب اب کوئی نیا غریب نہیں آسکتا۔کیونکہ جیسا کہ بنایا گیا ہے اسلام کا دع بھی ہے کہ اس کی تعلیم دائمی ہے۔پس اگر کوئی فرقہ نیا پیدا ہوتا ہے جو پرانے فرقوں سے اختلاف رکھتا ہے اور اس کا اختلاف بہت نمایاں نظر آتا ہے تو پرانے عوام یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید ان لوگوں نے اسلام سے باہر کوئی نیا مذہب نکالا ہے۔اسی طرح غیر مسلم لوگوں کو بھی یہ شبہ پیدا ہوتا ہے که شاید یہ کوئی نیا مذہب ہے۔پس اس شہر کو دور کرنے کے لئے یہ لکھا جاتا ہے ، کہ احمدیت ہی حقیقی اسلام ہے۔یعنی احمدیت کوئی نیا مذہب نہیں ہے بلکہ جہاں وہ دوسرے فرتوں سے اختلاف کرتی ہے وہاں وہ یہ دعوئی بھی کرتی ہے کہ یہ اختلاف اسلام سے نہیں ہے بلکہ موجودہ فرقوں سے ہے۔اسلام کی صحیح تشریح وہی ہے جو کہ احمدیت پیش کرتی ہے۔اب رہا یہ سوال کہ اس کا دعوی کہاں تک سچ ہے سو اس سوال کا فیصلہ اسی طرح کیا جائے گا جس طرح ہر سچائی کا کیا جاتا ہے۔یعنی ہر انسان کو خدا تعالیٰ نے عقل دی ہے وہ اپنی عقل سے احمدیت کے دلائل کا موازنہ کرے گا اور پھر فیصلہ کرے گا۔اگر احمدیت جو قرآن کی تشریح پیش کرتی ہے وہ قرآن کریم کی دوسری آیتوں کے مطابق ہے اور لغت عربی اور عربی گرامردونوں اُس کی تصدیق کرتی ہیں یا اسے جائز قرار دیتی ہیں اور عقل بھی اور ضمیر انسانی مجھی انہی معنوں کی تصدیقی کرتی ہے تو ماننا پڑے گا کہ احمدیت والی تشریح ہی درست ہے دوسری، تشریحی غلط ہے۔اندر پونکہ رو تشریح ہے کوئی نیا عقیدہ نہیں ہے اس لئے اگر وہ تشریع درست ہے تو پھر احمدیت میں حقیقی اسلام ہے اور جو لوگ اس کے خالات عقیدہ بیان کرتے ہیں وہ در حقیقت اسلام سے دور جا پڑے ہیں اور اپنے خیالات کو اسلام کے نام سے پریڈ کرتے ہیں۔دوسرا سوال - احمدی لوگ ابراہیم ، موسی ، بدھ ، زرتشت اور مسیح کے متعلق کیا کہتے ہیں ؟ جواب۔یہ سوال جو آپ نے کیا ہے یہ بھی اُوپر والے سوال کا ایک حصہ ہے۔اس سوال کے متعلق احمدیت جو تعلیم دیتی ہے وہ اس وقت کے مسلمانوں کے لئے عجوبہ ہے