تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 103
96 کو روح کو روشن کرتے میں منہمک رہے۔اور ایک طرح سے اس قسم کی کیفیت حج میں بھی پائی جاتی ہے جس میں انسان گویا اپنے مادی تعلقات کو کاٹ کر صرف خدا کے لئے یہ ایام گذارتا ہے اور اس قسم کا ماحول یقیناً روح کی ترقی اور اُس کی بلندی اور اس کے بلا کا موجب ہوتا ہے۔یہی کیفیت آپ کے لئے قادیان کی موجودہ زندگی نے پیدا کر دیا ہے کیونکہ آسمیل وہاں آپ اپنے بیوی بچوں سے بھیدا، اپنے کاروبار سے کئے ہوئے ، اپنے ہر قسم کے دنیوی تعلقات سے دُور پھینکے ہوئے زندگی کے دن گزار رہے ہیں۔یہ زندگی یقیناً اپنے بعض پہلوؤں کے لحاظ سے قیم کے لئے تکلیفہ وہ ہو گی۔مگر آپ کو مبارکہ، ہو کہ یہی زندگی آپ کی دونوں کے لئے ایک ایسے خوشگوار مرغزار کاحکم رکھتی ہے جو اں مومن کی روح گویا خوشی کے ساتھ کھیلیں بھرتی ہوئی فرشتوں کی رفاقت اور خدا کے سایہ میں اپنا وقت گزارتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غار حرا میں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہوشیار پور کے ایک دور افتادہ کھنڈر مکان میں خود موقعہ کاش کہ کے مفلوت کی جگہ ڈھونڈی اور آپ جانتے ہیں کہ یہ دونوں صورتیں دنیا میں کسی عظیم انسان روحانی انتشار کا موبیہ بے بن گئیں۔پس میرے دوستو! آپ کے لئے ہو موقعہ خود خدا نے ایک قسم کی وقتی اور جزوی رہبانیت کا پیدا کر دیا ہے اسے غنیمت سمجھو اور اپنی دعاؤں اور نوافل اور بہار نفس اور پاک نمونہ سے اُن بھاری تغیرات کو قریب تر لے آؤ ہو آسمان پر تو مقدر ہیں مگر ابھی تک زمین پر ظاہر نہیں ہوئے۔گذشتہ سال کے غیر معمولی حادثات اور قیامت خیز انقلابات میں بھی ہمارے لئے اللہ تعالے کی خاص رحمت کا یہ ممتاز پہلو موجود ہے کہ یا یہود اس کے کہ جماعت کے بیشتر حصہ کو قادیان سے نکلنا پڑا قادیان کے وہ خاص مقدس مقامات جنہوں نے حضرت مسیح موعود عليه الصلواۃ والسلام سے براہ راست برکت حاصل کی لینی مسجد مبارک امسجد اقصی مینارہ ایسے بیت الدعاء ، دار اسیح ، مقبره بهشتی و غیره وہ سب ابھی تک خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ کے قبضے میں ہیں اور آپ لوگوں کو ان کی خدمت کا شرف حاصل ہوا ہے اور اس طرح جماعت کو یہ موقعہ میسر آ گیا۔ہے کہ اس کا ایک حصہ باہر آ کر تبلیغ کی جد وجہد میں مصروف ہے، اور دوسر حصہ مرکز میں بیٹھ کر مقدس مقامات کی خدمت بجا لا رہا ہے۔یہ وہ خصوصیت ہے جو مشرقی