تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 102
۹۶ فریضہ تبلیغ کس طرح ادا کر سکتے ہیں کیونکہ خدا نے مومن کے لئے ہر حال میں کسی نہ کسی جدیت سے ہر عمل صالح کا رستہ کھول رکھا ہے اور یقیناً اگر آپ چاہیں اور میں جانتا ہوں کہ آپ ضرور چاہتے ہیں، موجودہ وقت میں بھی ذیل کے تین طریق پر اپنے فریضے سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں :- (اول) ان شریعت مزاج اور سنجیدہ غیر مسلموں کو تبلیغ کر کے جو آپ کے ارد گرد رہتے ہیں یا آپ سے ملنے کے لئے آتے رہتے ہیں۔اور آپ یقین رکھیں کہ مظلوم اور بے کہیں انسان کی تبلیغ میں ہمیشہ زیادہ اثر ہوا کرتا ہے۔(دوم) دینی اور اخلاقی لحاظ سے اعلیٰ نمونہ قائم کر کے ، کیونکہ اچھا نمونہ ایسی چیز ہے جو دشمنوں تک کا دل موہ لیتا ہے اور بسا اوقات سیاسی لحاظ سے غالب انسان اخلاقی اور دینی لحاظ سے مغلوب ہو جایا کرتا ہے۔(سوم) جماعت کی ترقی اور اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے خدا کے حضور دعائیں کر کے ، کیونکہ جب مؤمن ظاہری اسباب کے لحاظ سے لیے دست و پا ہو جاتا ہے تو خدا کا یہ ازلی قانون ہے کہ ایسے حالات میں اس کی دُھا کی تاثیر ہمیشہ بڑھ جایا کرتی ہے۔پس یہ تین ایسے آسان اور موثر طریقہ ہیں جنہیں اختیار کر کے آپ قادیان کی موجودہ محصوریت کی زندگی میں بھی فریضہ تبلیغ ادا کر سکتے ہیں اور اپنی اہم ذمہداری سے عہد پر ہو سکتے ہیں۔آپ کو یہ نکتہ کبھی نہیں بھولنا چاہئیے کہ یہ ایک متک جسم اور روح ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور ایک کی قرات دوست کی طاقت کا ذریعہ بنتی ہے وہاں یہ بھی سندرا کا امل قانون ہے کہ ایک خاص حد کے بعد ان دونوں کے رستے جن کے جدا ہو جاتے ہیں یعنی اس خاص حد کے بعد جسم کی طاقت روح کی کمزوری اور جسم کی کمزور کی روح کی طاقت کا ذریعہ بن بھاتی ہے۔اسی لئے باوجود اس کے کہ اسلام نے رہبانیت یعنی تارک الدنیا ہونے کو نا جائز قرار دیا ہے وہاں اس نے بعض موقعوں پر ایک بروی قسم کی رہبانیت کی اجازت بھی دی ہے بلکہ صرف اجازت ہی نہیں دی بلکہ اسے پسند کیا اور اس کی تحریک فرمائی ہے۔چنانچہ رمضان کے مہینے میں اعتکافت کا عشرہ اسی قسم کی جنہوی رہبانیت کا منظر پیش کرتا ہے کہ جب انسان گویا دنیا کے تمام تعلقات سے کٹ کر خالصتہ روحانی فضاء میں اپنا وقت گزارتا ہے اور ان ایام میں اس بات کے سوا اُس کا کوئی مقصد نہیں ہوتا کہ اپنے جسم کو بھول