تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 104 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 104

پنجاب کے کسی اور مقام کو حاصل نہیں ہوئی۔مگر اس خصوصیت کی قدر کو دوبالا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہر حصہ اپنی خدمت کے مخصوص پہلو کے ساتھ ساتھ جہانتک اس کے لئے ممکن ہو دوسرے پہلو کو بھی مد نظر رکھے۔یہ مت خیال کرو کہ ان فرائض کی ادائیگی میں حکومت کی طرف سے کوئی روک ہو سکتی ہے۔دنیا کی کوئی متمدن حکومت فریضہ تبلیغ کی پرامن ادائیگی اور مقدس مقامات کی خدمت میں روک نہیں ہو سکتی۔یہ وہ بنیادی حقوق انسانی ہیں جسے حکومت ہند نے بھی اپنے بار بار کے اعلانوں میں صراحت کے ساتھ تسلیم کیا ہے لیکن بہر حال قرآن شریعیت کے اس سنہری اصول کو مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ اُدْعُ إلى سَبیلِ رَبِّكَ بِالكُرَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ رَجَادِ لَهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ یعنی اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت اور عمدہ انداز نصیحت کے طریق پر دعوت دو اور بحث اور مجادلہ کی صورت میں کبھی پسندیدہ اسلوب کو نہ کھوڑو کیونکہ اس طرح تم فریق ثانی کے دل کی کھڑکیوں کو زیادہ آسانی کے ساتھ کھول سکو گے۔خدا کے فضل سے اب آہستہ آہستہ نارمل حالات پیدا ہو رہے ہیں اور مہارا فرض ہے کہ حالات کے اس تغیر سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُن ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دیں جو خدا نے ہم پر عائد کی ہیں۔باقی اگر کوئی فرد اب بھی آپ لوگوں کے ساتھ جاہلانہ انداز میں پیش آتا ہے تو اس کے لئے اسلام کی صاف صاف تعلیم موجود ہے کہ اِذا خَاطَبَهُمُ الجَاهِلُونَ قالوا سلاما احمدیت کی تحریک غدا کے فضل سے ایک عالم یہ تحریک ہے جو اپنے منبع و ماخذ کی طرح تمام قیود زمانی و مکانی سے آزاد ہے کیونکہ احمدیت کی غرض و غایت اسلام کی تجدید اور دلائل وبراہین کی مد سے اسلام کی اشاعت ہے اور اسلام وہ مذہب ہے جو قیامت تک کے لئے اسود و احمر کی ہدایت کے واسطے قائم کیا گیا ہے۔پس اسلام کی طرح احمدیت کے لئے مرت پاکستان اور ہندوستان کا سوال نہیں ہے بلکہ ہر ملک اس کا گھر اور ہر خطہ ارض اس کا آتشین ہے اور یقیناً جماعت احمدیہ کے افراد جہاں بھی ہوں گے اپنے ملکی قانون کے پابند اور پرین شہری بن کر رہیں گے۔مگر ذمہ داریاں ہمیشہ دوہری ہوا کرتی ہیں یعنی جہاں ملک اپنے شہریوں پر کچھ پابندیاں لگاتا ہے وہاں وہ لازماً اپنے اوپر بھی اُن کے بعض حقوق تسلیم کرتا ہے۔پس