تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 100
पे دوسرے دوست بھی جو باہر سے اس وقت قادیان میں تشریف لا سکے ہوں وہ بھی آج سے اپنا نقطہ نگاہ بدل دیں۔آج سے ان میں سے ہر شخص اپنے آپ کو اُمت سمجھنے لگ جائے۔وہ یہ سمجھے لے کہ جس طرح آم کی گھٹی میں سے ایک بڑا درخت پیدا ہو جاتا ہے ، جس طرح بڑ کے چھوٹے سے بیچ میں سے سینکڑوں آدمیوں کو سایہ دینے والا بڑا پیدا ہو جاتا ہے ، اسی طرح وہ اُمت بن کہ رہے گا۔وہ ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں اپنی نسلیں پھیلا دے گا۔وہ منانوش قربانی کی جگہ اب اصلاح کے لئے اپنی قربانی کو پیش کرے گا۔ہندوستان اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کے اندر پھر سے انسانیت کو قائم کیا جائے۔پھر سے صلح اور آشتی کو قائم کیا جائے پھر سے خدا تعالے کی محبت اس کے دل میں پیدا کی جائے اور یہ کام سوائے آپ لوگوں کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔عزم میم کے ساتھ اُٹھیں۔طوفان کا سا جوش لے کر اٹھیں اور ہندوستان پر چھا جائیں جس کا نتیجہ ضرور یہ نکلے گا کہ وہ لوگ جو آج احمدیت کو بغض اور کینہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ایک دشمن کی حیثیت میں دیکھتے ہیں وہ اور اُن کی نسلیں آپ لوگوں کے ہاتھ چومیں گی۔آپ لوگوں کے لئے برکتیں مانگیں گی اور دعائیں دیں گی کہ آپ لوگ اس بدقسمت ملک کو امن دینے والے اور صلح ، ور آشتی کی طرف لانے والے ثابت ہوئے استریت ایک نور ہے۔احمدیت صلح کا پیغام ہے۔اسمیت امن کی آواز ہے۔تم اس ٹور سے دنیا کو منور کردہ تم اس پیغام کی طرف لوگوں کو بلاؤ۔تم اس آواز کو دنیا کے گوشہ گوشہ میں بلند کرد و خدا تمہارے ساتھ ہو۔خاکسالہ مرزا محمود احمد " مکتوبات اصحاب احمد علیہ السلام جلد اول مرتبہ ملک صلاح الدین صاحب ایم اے قادیان (بھارت) صفحہ ہم تا ۵ ۵ طبع اول مطبوع اگست ۵۳ دار ۲۲ فتح سمر بش کو قصر خلافت کی بالائی منزل میں صدر امین احمدیہ قادیان کا ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں حضرت مصلح موعود کے اس انقلاب انگیز پی ام کی روشنی میں مناسب تجاویز زیر غور لائی گئیں اور نئے تقاضوں کے مدنظر ضروری مشورے کئے گئے ؟