تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 99
۹۳ صحیح طور پر جماعتوں کو بیدار کرنے کی طرف توجہ کریں تو ہندوستان میں احمدیت کے پھیلنے کا بے نظیر موقع ہے۔سردست مولوی بشیر احمد صاحب یوپی کی جماعتوں کو منظم کریں اور یوپی کے تمام چندے سوائے تحریک تجدید کے چندہ کے جو غیر ملک کی تبلیغ پر خرچ ہوتا ہے قادیان بھجوائیں آپ لوگ باقاعدہ خط و کتابت کے ذریعہ سے ہمیں بتاتے رہیں کہ فلاں فلاں جماعت منظم ہو گئی ہے اور ان کا چندہ قادیان میں آنے لگ گیا ہے تا ایسا نہ ہو کہ دو عملی کی وجہ سے کوئی جماعت بالکل تباہ ہو جائے۔جب آپ یو پی کی جماعتوں کو منظم کر لیں گے تو ہم دوسر کھو جوں کو باری بادی آپ کے سپرد کرتے چلے جائیں گے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ اب خاموشی سے جھنڈے کو پکڑ کر کھڑے رہنے کا وقت گزر ہوگا۔وہ کام آپ نے شاندار طور پر کیا جس کے لئے دنیا بھر کے احمدی آپ لوگوں کے ممنون ہیں اور آنے والی نسلیں بھی آپ کی ممتون رہیں گی۔مگر انسان ایک بڑھنے والی ہستی ہے۔ہر روز اس کے حالات متغیر ہوتے ہیں اور سر روز کے بدلے ہوئے حالات کے مطابق اسے کام کرنا پڑتا ہے کل کی روئی آج کام نہیں آسکتی اور آج کی روٹی آنے والے کل کام نہیں آسکتی۔پس وہ عظیم الشان خدمت جس کے کرنے کی اللہ تعالیٰ نے آپ کو توفیق بخشی ہے۔اس کا تقاضا ہے کہ آپ اب اگلا قدم اُٹھائیں اور قادیان کے خاموش مرکز کو ایک زندہ مرکز میں تبدیل کر دیں، بہندوستان یونین کی آباد کی ۲۸-۲۹ کروڑ کے قریب ہے۔اس کی اصلاح اور اس کی نجات کوئی معمولی کام نہیں ، کسی زمانہ میں ساری دنیا کی آبادی اتنی ہی تھی۔پس آج سے سینکڑوں سال پہلے ساری دنیا کی اصلاح کا کام جتنا اہم تھا اتنا ہی آج ہندوستان کی اصلاح کا کام اہم ہے جین لوگوں کو خدا تعالٰی نے قادیان کی چھوٹی سی بستی کو بڑھا کہ ایک سعی و عمل کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر بنانے کی توفیق بخشی وہ بھی انسان تھے اور آپ بھی انسان ہیں آپ اپنے آپ کو افراد کی حقیقت میں دیکھنا چھوڑ دیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً (النمل ) ابراہیم ایک اُمت تھا۔جو لوگ خدا تعالے پر نظر رکھتے ہوئے اس کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں وہ اپنے آپ کو فرد سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ان میں سے ہر شخص اپنے آپ کو امت سمجھتا ہے اور اُن میں سے بعض شخص تو اپنے آپ کو دنیا سمجھتے ہیں۔آپ لوگ بھی اور وہ