تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 93
اور پاکستان کے لوگ ہی نہیں بلکہ دنیا کے دور دراز ملکوں کے لوگ بھی قادیان کے لوگوں کی قربانی کی تعریف کر رہے ہیں۔امریکہ اور یورپ کے لوگ اب قادیان کو صرف ایک مذہبی مرکز کے طور پر نہیں دیکھ رہے بلکہ قربانی کرنے والے ایثار کرنے والے اور اس دُکھ بھری دنیا کو اس کے دُکھوں سے نجات دینے کی کوشش کرنے والے لوگوں کا مرکز سمجھ رہے ہیں۔اس نقطہ نگاہ سے قادیان اب صرف احمدیوں کا مرکز نہیں رہا بلکہ وہ مختلف مفید عام کاموں کی خواہش رکھنے والے لوگوں کی توجہ کا مرکز بھی ہو گیا ہے۔ابھی چند دنوں کی بات ہے کہ ایک مجلس میں شامل ہونے کا مجھے موقعہ ملا۔میرے پاس امریکن قونصل جنرل کی بیوی تشریف رکھتی تھیں مجلس سے اٹھتے وقت میں نے ان سے کہا کہ اپنے خاوندہ سے مجھے انٹروڈیوس کرا دیں۔انہوں نے اپنے خاوند کو مجھ سے ملوایا۔ملنے کے بعد سب سے پہلے فقرہ جو امریکن قونصل جنرل نے کہا وہ یہ تھا کہ مجھے قادیان دیکھنے کی بہت خواہش ہے افسوس ہے کہ اس وقت چوک میں اس خواہش کو پورا نہیں کر سکا۔میں نے کہا ہمیں بھی بہت خواہش ہے لیکن افسوس کہ اس وقت ہم بھی اس خواہش کو پورا نہیں کر سکتے۔اسے سُن کر نہایت انسوس سے امریکن قونصل مقتول نے کہا۔ہاں ہمیں بھی اس بات کا بہت افسوس ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے گو احمدیہ جماعت کی اکثریت قادیان کو چھوڑنے پر مجبور ہوئی ہے اور اب صرف چند سو احمدی قادیان میں رہ گئے ہیں لیکن قادیان پہلے سے بھی زیادہ دُنیا کی توجہ کا مرکز ہو گیا ہے اور اس کی وجہ وہی قربانی اور شاندار نمونہ ہے جو قادیان کے احمدیوں نے پیش کیا۔اور آپ لوگ اس قربانی کی مثال کو زندہ رکھنے والے ہیں اور اس وجہ سے اس معاملہ میں سب سے زیادہ مبارک باد کے ستحق ہیں۔لیکن صرف کسی چیز کو زندہ رکھنا کافی نہیں ہوا کرتا۔اس چیز کو زیادہ سے زیادہ پھیلانا اصل کام ہوتا ہے۔اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس نور آسمانی کو اپنے دل میں زندہ رکھتے جو آسمان سے اس وقت نازل ہوا تھا تو یہ بھی ایک بہت بڑا کام ہوتا۔لیکن اتنا بڑا کام نہیں جو اس صورت میں ہوا کہ آپ نے اس نور کو اپنے دل ہی میں زندہ نہیں رکھا بلکہ ہزاروں لاکھوں اور انسانوں کو بھی اس نور سے منور کر دیا۔صحابہ کرام نے اس ٹور کو اپنی زندگیوں میں زندہ رکھ کہ ایک بہت بڑا نمونہ دکھایا۔لیکن اُن کا یہ نمونہ اس