تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 92
Aч میں ملی ہے اور شاید اس سے جماعت کے لوگ فائدہ نہ اُٹھا سکیں۔لیکن اگر بعض افراد کو اس سے فائدہ اُٹھانے کی توفیق ملی ہو تو میں انہیں بھی اس اہم موقعہ پر حصہ لینے پر مبارک باد دیتا ہوں۔بر اور ان ! جماعتیں بڑے صدمات میں سے گذرے بغیر کبھی بڑی نہیں ہوتیں۔قربانی کے مواقع کا میسر آتا اور پھر قربانی کرنے کی قابلیت ظاہر کر دینا ، یہی افراد کو جماعتوں میں تبدیل کر دیتا ہے اور اس سے جماعتیں بڑی جماعت بنتی ہیں۔ہماری قربانیاں اس وقت تک بالکل اور قسم کی تھیں اور ان کو دیکھتے ہوئے نہیں کہا جا سکتا تھا کہ ہماری جماعت کے بڑے بننے کے امکانات موجود ہیں۔مگر اب جو قادیان کا محادثہ پیش آیا ہے وہ اس قسم کے واقعات میں سے ہے جو قوموں کو بڑا بنایا کرتے ہیں۔اگر اس وقت ہماری جماعت نے اپنے فرائض کو سمجھا ، اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کیا تو بڑائی اور عظمت اور خدائی برکات یقیناً اس کے شامل حال ہوں گی اور وہ اس کام کو پورا کرنے میں کامیاب ہوگی جو خدا تعالیٰ نے اس کے سپرد کیا ہے۔میں قادیان کے رہنے والے احمدیوں کو اس امر کی طرف خصوصیت کے ساتھ توجہ دلاتا ہوں کہ وہ شور و شتر کا زمانہ جس نے عمل کے مواقع کو بالکل باطل کر دیا تھا اب ختم ہو رھا ہے۔آہستہ آہستہ امن فساد کی جگہ لے رہا ہے۔بہت سی جگہوں کے راستے کھل گئے ہیں اور باقی کے متعلق امید ہے کہ آہستہ آہستہ کھل جائیں گے۔مگر تیس رنگ میں کام پھل رہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ساری دنیا کی جماعت احمدیہ کا ایک مرکز پر جمع ہو جانا ابھی کچھ وقت چاہتا ہے۔وہ وقت لمبا ہو یا کچھوٹا لیکن بہر حال جب تک وہ وقت نہ آئے جس حد تک موجودہ تعطل کو دور کیا جاسکے اس کا دور کیا جانا ضروری ہے۔گذشتہ سال ہو تعطل واقع ہوا وہ معافی کے قابل تھا کیونکہ تمام علاقے آپس میں کئے ہوئے تھے اور ایک دوسرے تک خبر پہنچانا ناممکن تھا۔لیکن اب وہ حالت نہیں رہی۔اب کسی نہ کسی ذریعہ سے قادیان اور ہندوستان کی جماعتوں کا تعلق قائم رکھا جا سکتا ہے اور تبلیغ اور اشاعت کے کام کو بھی ہاتھوں میں لیا جا سکتا ہے۔گذشتہ ایام میں جو تیا ہی آئی اس موقعہ پر قادیان کے اکثر احباب نے نہایت عمدہ نمونہ دکھایا اور قابل تعریفت قربانی پیش کی جس پر میں ہی نہیں ہندوستان