تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 94
سے بھی زیادہ شاندار تھا کہ انہوں نے نور محمدی کا ایک حصہ اپنے سینوں سے نکال کم لاکھوں اور کروڑوں دیگر انسانوں کے دلوں میں بھی بھر دیا۔پس اے میرے عزیزو! آپ کی زندگی کا پہلا دور ختم ہوتا ہے اور نیا دور شروع کرنے کا وقت آگیا ہے۔پہلے دوار کی مثال ایسی تھی جیسے چٹان پر ایک لیمپ روشن کیا جاتا ہے تاکہ وہ قریب آنے والے جہازوں کو ہوشیار کرتا رہے اور تباہی سے بچائے۔لیکن نئے دور کی مثال اس سورج کی سی ہے جس کے گرد دنیا گھومتی ہے اور جو بار کی باری ساری دنیا کو روشن کر دیتا ہے۔بیشک آپ کی تعداد قادیان میں تین سو تیرہ ہے لیکن آپ اس بات کو نہیں بھولے ہونگے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قادیان میں خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے کام کو مشروع فرمایا تھا تو اس وقت قادیان میں احمدیوں کی تعداد صرف دو تین تھی۔تین تصو آدمی یقیناً تین سے زیادہ ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے کے وقت قادیان کی آبادی گیارہ سو تھی۔گیارہ سو اور تین کی نسبت پیسے کی ہوتی ہے۔اگر اس وقت قادیان کی آبادی بارہ ہزارہ کبھی بجھائے تو موجودہ احمدیہ آبادی کی نسبت باقی قادیان کے لوگوں سے پتہ ہوتی ہے۔گویا جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے کام شروع کیا اس سے آپ کی طاقت دس گنے زیادہ ہے۔پھر ہیں وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کام شروع کیا اس وقت قادیان سے باہر کوئی احمدیہ جماعت نہیں تھی لیکن اب ہندوستان میں بھی پیسیوں جگہ پر احمدیہ جماعتیں قائم ہیں۔ان جماعتوں کو بیدار کرنا، منتظم کرنا ، ایک نئے عزم کے ساتھ کھڑا کرنا اور اس ارادہ کے ساتھ ان کی طاقتوں کو جمع کرتا کہ وہ اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کو ہندوستان کے چاروں گوشوں میں پھیلا دیں۔یہ آپ لوگوں کا ہی کام ہے۔ہم کہتے ہیں کہ قادیان احمدیوں کا مرکز ہے۔آپ لوگ بھی کہتے ہیں کہ ہم اس لئے قادیان میں بیٹھے ہیں کہ یہ ہم احمدیوں کا مرکز ہے۔اب یہ آپ لوگوں کا فرض ہے کہ مرکز کو مرکز کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کریں۔مرکز چند مجاوروں کے جمع ہو کر بیٹھ جانے کا نام نہیں۔مرکز ایک بے انتہار بعدیہ کا نام ہے جو اپنے ماحول پر چھا جانے کا ارادہ کر کے کھڑا ہو۔مرکز کا نام قرآن کریم میں ماں رکھا ہے اور ماں وہی ہوتی ہے جو