تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 88 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 88

Ap کہنے لگے۔یہ منی آرڈر بغیر سفر تقسیم ہو گیا ہے۔اب اسے مفسر کو انے کے لئے دہلی بھیجنا ہے۔عرض کیا گیا کہ منی آرڈر کا سنسر کیا معنی ! اور پھر کوپن پر کچھ لکھا ہوا بھی نہیں جس کو سنسر کھانا ضروری ہو۔آپ کی بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔لیکن پوسٹماسٹر صاحب نہ مانے اور انہوں نے رقم واپس لے کر منی آرڈر سنٹر کرانے کے لئے دہلی بھیج دیا۔ایک سکھ ڈی ایس پی نے ایک احمدی کو یونہی سڑک پر گر فتار کر کے ہندو اے۔ڈی۔ایم کی عدالت میں پیش کر دیا اور شکائیت کی کہ اس نے کردید کی خلاف ورزی کی ہے۔اے ڈی ایم نے کہا کہ اس وقت قادیان میں کوئی کر نیو نہیں پھر خلاف ورزی کس چیز کی ہوئی۔سکھ ڈی ایس پی نے کہا۔نہیں صاحب کہ فیو موجود ہے۔اسے ڈی ایم نے کہا آخر کر فید آرڈر تو میں ہی صادر کرتا ہوں۔میں نے کوئی حکم نہیں دیا اور اس وقت اس علاقے کے کسی حصے میں کرفیو نہیں ہے۔سکھ ڈی ایس پی ایک سکھ دوسرے پولیس۔غصے میں آگئے اور ہندو اے ڈی ایم سے کہنے لگے۔اچھا آپ سمجھتے ہیں کہ کو فیو نہیں ہے بہتر ہے ذرا خود باہر نکل کر دیکھئے۔کو فیو ہے یا نہیں۔اے ڈی ایم اس گستاخانہ دھمکی پر دم بخود رہ گئے۔لیکن کیا کرتے۔آجکل ہندو افسروں کو ہر جگہ سکھوں سے دینا پڑتا ہے۔قادیان کے بہشتی مقبرے کے گرد احمدیوں نے ایک دیوار تعمیر کی جس میں جھلملیاں لگائی گئی ہیں جنہیں پنجابی میں پھرنا کہتے ہیں۔سکھوں نے بالائی حکام کے پاس شکایت کر دی۔کہ مرزائیوں نے تو پوں اور بندوقوں کے لئے مورچے بنائے ہیں۔فوجی افسر موقع کا معائنہ کرنے آئے تو بہت ناراض ہوئے کہ تم خواہ مخواہ ہمارا وقت ضائع کرتے ہو۔بھلا یہ بھی کوئی مورچے ہیں۔کیا ان میں کوئی بندوق یا توپ لگائی جا سکتی ہے۔پھر احمدیوں نے اپنے گھروں کی عمارتوں پر تو مورچھے نہ لگائے قبروں پر مورچوں کی کیا ضرورت تھی۔شکایت کرنے والے سکھ خفیف ہوئے۔ایک اور عجیب و غریب شکایت کی گئی ہے کہ صاحب یہ احمدی صرف تین سو تیرہ نہیں نہیں بلکہ ہزاروں ہیں۔بات اصل میں یہ ہے کہ یہ سب اپنے تہہ خانوں میں چھپے رہتے ہیں اور صرف تین سو تیرہ باہر نکلتے ہیں۔پھر وہ مصائب ہو جاتے ہیں اور تین سو تیرہ کی نئی