تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 48
حکومت اپنے ملک میں اسلام کی تبلیغ کو روکتی ہے تو مسلمان حکومتوں کا بھی حق ہے کہ وہ اس کے مبلغوں کو اپنے ملک میں تبلیغ نہ کرنے دیں۔اسی طرح چا ہیئے کہ ہماری گورنمنٹ انگلستان کی گورنمنٹ کے پاس بھی اس کے خلاف احتجاج کرے اور کہے کہ یا تو پین کی حکومت کو مجبور کر و کہ وہ اپنے ملک میں اسلام کی تبلیغ کی اجازت دے نہیں تو ہم بھی اپنے ملک میں عیسائیت کی تبلیغ کو بالکل روک دیں گے۔اسی طرح وہ امریکہ کے پاس احتجاج کرے اور کہے کہ وہ ہسپانوی گورنمنٹ کو اپنے اس فعل سے روکے ورنہ ہم بھی مجبور ہوں گے کہ عیسائی مبلغوں کو اپنے ملک سے نکال دیں۔بہر حال یہ ایک نہایت ہی افسوسناک امر ہے کہ ایک ایسا ملک جو پاکستان سے دوستانہ تعلقات رکھتا ہے ایک اسلامی مبلغ کو نوٹ دیتا ہے کہ تم ہمارے ملک میں اسلام کی تبلیغ کیوں کرتے ہوئے ایک دفعہ پہلے بھی پانچ سات نوجوان ہمارے مبلغ کے پاس بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ سی۔آئی۔ڈی کے کچھ آدمی وہاں آگئے اور انہوں نے کہا کہ تم حکومت کے باغی ہو کیونکہ حکومت کا مذہب رومن کیتھولک ہے اور ہم نے سُنا ہے کہ تم مسلمان ہو گئے ہو۔ان نوجوانوں نے کہا ہم حکومت کے تم سے بھی زیادہ وفادار ہیں لیکن اِس امر کا مذہب سے کیا تعلق ہے ؟ انہوں نے کہا دراصل پادریوں نے حکومت کے پاس شکایت کی ہے کہ یہاں اسلام کی تبلیغ کی جاتی ہے اور گورنمنٹ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم تمہاری نگرانی کریں۔انہوں نے کہا تم ہمیں دوسرے کی باتیں سنتے سے نہیں روک سکتے اگر ہمارا دل چاہا تو ہم مسلمان ہو جائیں گے لیکن تمہیں کوئی اختیار نہیں کہ تم دوسروں پر جبر سے کام لو۔اُس وقت سے یہ مخالفت کا سلسلہ جاری تھا جو آخر اس نوٹس کی شکل میں ظاہر ہوا۔بہر حال یہ ایک نہایت ہی افسوسناک امر ہے کہ بعض عیسائی ممالک میں اب اسلام کی تب شیخ پر بھی پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔پہلے عیسائی ممالک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف رات اور دن جھوٹ بولتے رہتے تھے ہم نے ان افتراؤں کا جواب دینے اور محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی حقیقی شان دنیا میں ظاہر کرنے کے لئے اپنے مبلغ ۱۳۳۵ ہو ہ یہ واقعہ ۲۹/ صلح / جنوری سم کا ہے 1909