تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 443 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 443

آتے ہی کیوں دیا وہ ہیں کیوں نہ مار ڈالا۔پھر میں نے پوچھا کہ پنجاب کی آبادی کتنی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ آب وو کروڑ ہے پہلے تین کروڑ ہوا کرتی تھی۔میں نے کہا بلوچستان کی کتنی آبادی ہے۔انہوں نے کہا ۱۲ لاکھ میں نے کہاتم دو تین کروڑ ہو کر ان لوگوں کو مار نہیں سکے تو ہم بارہ لاکھ کو کیوں ذلیل کرتے ہو اور کیوں ہمیں ان کی مخالفت کے لئے اُکساتے ہو حقیقت یہ ہے کہ دنیا نے اپنا سارا زور ہماری مخالفت میں لگا لیا اور ابھی اور لگائے گی لیکن یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ احمدیت دنیا میں غالب آکر رہے گی کیونکہ احمدیت کے بغیر محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم غالب نہیں آسکتے۔اس کے ساتھ ہی میں اپنی ذات کے متعلق بھی یہ بات جانتا ہوں کہ میری زندگی کے ساتھ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی زندگی وابستہ ہے۔اِس لئے میرا بھی دشمن کے ہاتھوں سے نہیں مرنے دے گا اور وہ میرے بچاؤ کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال لے گا بہرحال اللہ تعالیٰ نے احمدیت کے ساتھ اسلام کی ترقی کو وابستہ کر دیا ہے جو شخص احمدیت پر ہاتھ اُٹھاتا ہے وہ اسلام پر ہاتھ اٹھاتا ہے، جو شخص احمدیت کو بر پا کرنا چاہتا ہے وہ اسلام کو بربیاد کرنا چاہتا ہے لیکن ہمارا بھی فرض ہے کہ جب خدا نے ہم پر اتنا بڑا احسان کیا ہے اور ہم کمزوروں) اور نا توانوں کے ساتھ اسلام کی آئندہ ترقی کو وابستہ کر دیا ہے تو ہم اس کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرو دیں۔اسی لئے باوجود اس کے کہ شہروں میں ہمیں مکان مل سکتے تھے مگر ہم نے نہیں لئے کیونکہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ لوگوں میں بیداری پیدا کرتے رہیں۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ ان میں تعلیم پیدا کریں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ان کی تعلیم اور تربیت کا خیال رکھیں اور یہ چیز بڑے شہرونی میں حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ وہاں جماعت بھری ہوئی ہوتی ہے پس با وجود اس کے کہ ہمیں شہروں میں جگہیں مل سکتی تھیں ہم نے ان کی پروا نہیں کی اور اس وادی غیر ذی زرع کو اس ارادہ اور نیت کے ساتھ چنا ہے کہ جب تک یہ عارضی مقام ہمارے پاس رہے گا ہم اسلام کا جھنڈا اس مقام پر پبلند رکھیں گے اور محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں قائم کرنے کی کوشش کریں گے اور جب خدا ہما را قادیان ہمیں واپس دے دے گا یہ مرکز صرف اس علاقہ کے لوگوں کے لئے رہ جائے گا یہ مقام اُجڑے گا نہیں کیونکہ جہاں خدا کا نام ایک دفعہ لے لیا جائے وہ مقام برباد نہیں ہوا کرتا۔پھر یہ صرف اس علاقہ کے لوگوں کا مرکز بن جائیگا اور ساری دنیا کا مرکز پھر قادیان بن جائے گا جو حقیقی اور دائمی مرکز ہے پس ہم یہاں آئے ہیں اس لئے کہ خدا کا نام اونچا کریں ہم اس لئے نہیں آئے کہ اپنے نام کو بلند کریں ہمارا نام شہروں میں زیادہ اونچا ہو i