تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 444
۴۳۹ سکتا تھا۔اور ہم اگر اپنے نام کو بلند کرنے کی خواہش رکھتے تو اس کے لئے بڑے شہر زیادہ موزوں تھے بلکہ خود ان شہروں کے رہنے والوں نے بھی خواہش کی تھی کہ وہیں جماعت کے لئے زمینیں خرید لی جائیں چنانچہ لا ہوں کوئٹہ اور کراچی میں چوٹی کے آدمی مجھ سے ملنے کے لئے آتے اور نواہش کرتے تھے کہ انہی کے شہر میں ہم رہائش اختیار کریں۔کراچی میں بھی لوگوں نے یہی خواہش کی اور کوئٹہ میں بھی لوگوں نے یہی خواہش کی۔غرض اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمیں ظاہری عربت شہروں میں زیادہ ملتی تھی مگر ہمارا کام اپنے لئے ظاہری عزت حاصل کہ تا نہیں بلکہ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اس جگہ کی تلاش کریں جہاں اسلام کی عورت کا یہ بیج بوسکیں اور ہم نے اسی نیت اور ارادہ سے اس وادی غیر ذی زرع کو چنا ہے۔چنانچہ دیکھ لو یہاں کوئی فصلیں نہیں ، کہیں مہب بھی کا نشان نہیں گویا چن کر ہم نے وہ مقام لیا ہے جو قطعی طور پہ آبادی اور زراعت کے ناقابل سمجھا جاتا تھا تا کہ کوئی شخص یہ نہ کہ دنے کہ پاکستان نے احمدیوں پر احسان کیا ہے مگر کہنے والوں نے پھر بھی کر دیا کہ کروڑوں کروڑ کی جائداد پاکستان نے احمدیوں کو دے دی ہے۔یہ زمین ہم نے دینی رو پیدا ایکڑ پر خریدی ہے اور یہ زمین ایسی ہے جو بالکل نجر اور غیر آباد ہے اور صدیوں سے نجرا اور غیر آباد دچلی آتی ہے۔یہاں کوئی کھیلتی نہیں ہو سکتی، کوئی سبزہ دکھائی نہیں دیتا، کوئی نہر اس زمین کو نہیں لگتی۔اس کے مقابلہ میں میں نے خود مظفر گڑھ میں نہر والی زمین آٹھ روپیہ ایکٹ پر خریدی تھی بلکہ اسی مظفر گڑھے میں ایک لاکھ ایکڑ زمین میاں شاہ نواز صاحب نے آٹھ آنے ایکٹر پر خریدی تھی جس سے بعد میں انہوں نے بہت نفع کمایا۔یہ زمین ہونے پہاڑی ٹیلوں کے درمیان اس لئے خریدی ہے کہ میری رؤیا اس زمین کے متعلق تھی۔یہ رویاد سمبر استار میں میں نے دیکھی تھی اور اور دسمبر اللہ کے الفضل میں شائع ہوچکی ہے۔اب تک دمن ہزار آدمی یہ ۲۱ رویا پڑھ چکے ہیں اور گورنمنٹ کے ریکار ڈیں بھی یہ رویا موجود ہے۔میں نے اس رویا میں دیکھا کہ قادیان پر حملہ ہوا ہے اور ہر قسم کے مہتھیار استعمال کئے جارہے ہیں مگر مقابلہ کے بعد دشمن غالب آگیا اور ہمیں وہ مقام چھوڑنا پڑار با ہر نکل کر ہم حیران ہیں کہ کس جگہ جائیں اور کہاں جا کہ اپنی حفاظت کا سامان کریں۔اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا لیکن ایک جگہ بتاتا ہوں ، آپ پہاڑوں پر چلیں وہاں اٹلی کے ایکٹ پادری نے گرجا بنایا ہوا ہے اور ساتھ اس نے ابن عمارتیں بھی بنائی ہوئی ہیں جنہیں وہ کرا نہ پڑے۔افروں کو دیتا ہے وہ مقام سب سے بہتر رہے گا۔لیکن ابھی متردد ہی تھا کہ اس جگہ رہائش اختیار کی بجائے یا نہ کی جائے کہ ایک شخص نے کہا آپ کو یہاں کوئی تکلیف نہیں ہوگی کیونکہ یہاں مسجد بھی ہے۔اس نے سمجھا کہ