تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 442
** کی مختلف کڑیوں کے سوا اور میں کیا ؟ آخرمحمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کو جو محبت ہے اس کے ظاہر ہونے کا وقت کب آئے گا اور کونساوہ دن ہو گا جب خدا تعالیٰ کی غیرت بھڑ کے گی اور مسلمانوں کو اس تنزلی اور ادبار سے نجات دلائے گی۔خدا تعالیٰ کی غیرت کبھی دنیا میں بھڑکتی ہے یا نہیں، اور اگر بھڑکتی ہے تو مسلمانوں کو سوچنا چاہیئے کہ اس کی غیرت کے بھڑکنے کا کونسا ذریعہ ہوا کرتا ہے۔اگر وہ سوچتے تو انہیں معلوم ہو جا تا کہ ہمیشہ ندا تعالی پہلے اپنا نا مور دنیا میں بھیجتا ہے اور پھر اس نامور کے ذریعہ ہی اس کی غیرت بھڑ کا کرتی ہے۔اس کے داخدا تعالیٰ نے کبھی کوئی طریقی اختیار نہیں کیا اور یہی ایک طریق ہے جس پر چل کر وہ اب بھی خدا تعالیٰ کی غیرت کا نمونہ دیکھ سکتے ہیں۔یہ بات مسلمانوں کے سامنے پیش کرو اور انہیں سمجھاؤ کہ تمہارا فائدہ ، اسلام کا فائدہ اور پھر ساری دنیا کا فائدہ اسی میں ہے کہ تم جلد سے جلد احمدیت میں شامل ہو جاؤ۔آخر وہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے وہ ہم سے رکتے ہیں۔ہماری تو ساری تاریخ بتاتی ہے کہ ہم نے ہر موقع پر سلمانوں کی خدمت کی ہے گو اس کے بعد ہمیشہ ان کی طرف سے مخالفت ہی ہوئی ہے مگر پھر بھی ہمارا کیا نقصان ہوا۔ابھی کوئٹہ میں خیر احمدیوں کی طرف سے ایک جلسہ کیا گیا جس میں لوگوں کو ہمارے خلاف اکسایا گیا۔ایک، احمدی ڈاکٹر میجر محمد احمد رات کے وقت کسی مریض کو دیکھ کر کار میں واپس آرہے تھے کہ وہ تقریر کی آواز شن کر وہاں ٹھہر گئے۔انہوں نے اپنی موٹر باہر کھڑی کی اور خود تھوڑی دیر کے لئے اندر چلے گئے نیجو غیر احمدیوں نے انہیں دیکھ کر دوسروں کو اکسا دیا اور انہوں نے ان پر پتھراؤ شروع کر دیا وہ پتھراؤ کی بوچھاڑ سے بچنے کے لئے ایک طرف اندھیرے میں چلے گئے اس پر کسی شخص نے وہیں اندھیرے میں خنجر مار کر انہیں شہید کر دیا دانی اس واقعہ کے تیسرے چوتھے دن بعد میرے پاس ایک وفد آیا جس میں بلوچستان مسلم لیگ کے وائس پر یڈ یا رفت بھی شامل تھے اور پٹھانوں کی قوم کے ایک سردار بھی شامل تھے اُگی سب نے آکر کہا کہ ڈاکٹر میر محمد کے قتل کا جو واقعہ ہوا ہے اس میں صرف پنجابیوں کا قصور ہے ہمارا کوئی قصور نہیں آپ ہم پر گلا نہ کریں۔پنجابی مولویوں نے یہاں آکر مخالفانہ تقریریں کیں جس سے لوگ مشتعل ہو گئے۔پھر اس سردار نے جو اپنی قوم کے ریلیس اور میونسپل کمیٹی کے مبر بھی تھے کہا کہ میں نے پنجابیوں کو بلوایا اور ان سے کہا کہ تم تو احمدیت کے خلاف شہرش کر رہے ہو تم یہ بتاؤ کہ قادیان پنجاب میں ہے یا بلوچستان میں۔انہوں نے کہا پنجاب ہیں۔میں نے کھا جب قا و بیان پنجاب میں تھا اور تم کو ایک لمبا عرصہ احمدیوں کی مخالفت کے لئے مل چکا ہے تو جب تم وہاں ان لوگوں کو تباہ نہیں کر سکے تو یہاں کیا مقابلہ کرو گے۔اگر تم میں ہمت اور طاقت تھی تو تم نے ان لوگوں کو یہاں