تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 29
۲۹ سکین اور منتقلیہ کے واقعات کو پڑھ کر تو اس کا خون گرمی کی حد سے نکل کر اُبلنے کی حد تک پہنچے جاتا ہے۔جہاں ہمارے آباء و اجداد نے سینکڑوں سالوں تک حکومتیں ہیں اور وہ ان ممالک کے بادشاہ رہے وہاں مسلمانوں سے یہ سلوک کیا گیا کہ ان کو جبراً عیسائی بنا دیا گیا اور آج وہاں اسلام کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں پھر یہ علاقے اس لحاظ سے بھی خصوصیت رکھتے ہیں کہ وہاں سے تمام اور مین ملکوں میں تبلیغ کے رستے کھلتے ہیں پس اس فریضہ کو سر انجام دینے کے لئے ضرورت ہے اخلاص کی ضرورت ہے متواتر قربانی کی ضرورت ہے بلند عزائم کی ہی سے مجاہدین سپین کو فرانس کے احمدی متلقین کی طرح اول قدم پر ہی شدید سپین میں بیغی مشکلات تبلیغی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغربی ممالک میں مدتوں سے جور و چل رہی تھی اس کی ابتداء مسلمانوں کے مکمل اخراج کے بعد سپین ہی سے ہوئی تھی اور یہ ملک صدیوں سے نہایت متعصب اور ظالم و نشد و کیتھولک چرپر CATHOLIC ) ( CHURCH کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنا ہوا تھا جہاں کیتھولک فرقہ کے سوا کسی دوسرے مذہب بلکہ عیسائی فرقہ پروٹسٹنٹ (PROTESTANT) تک کو اپنے مخصوص نظریات پھیلانے کی اجازت نہ تھی۔ملکی آئین کے مطابق دوسرے مذاہب والے اگر چہ حکام کو اطلاع دے کہ اپنے مکان کے اندر عبادت تو کر سکتے تھے مگر باہر اپنا بورڈ وغیرہ آویزاں نہیں کر سکتے تھے۔میں جو منی کی شکست کے بعد جب بین الاقوامی سیاست نے پلٹا کھایا تو اس ملک کی خارجہ پالیسی میں بھی کسی قدر لچک پیدا ہوگئی اور اس نے اسلام کے نام سے انتہائی نفرت کے باوجود شام، شرق الاردن اسعودی عرب اور ترکی وغیرہ مسلم ممالک سے سفارتی تعلقات قائم کرلئے پاس طرح خدا کے فضل و کرم سے اگر و مستلقین احمدیت کو بھی سپین میں داخلہ کی اجازت مل گئی مگر خفیہ پولیس مش کی خاص نگرانی پر تعین کر دی گئی ہے مولوی کرم اٹھی صاحب ظفر نے ESCULA NaciouAL DE idiomas میں داخلہ لیا اور چھ ماہ میں اپنا مافی الضمیر ادا کرنے کے قابل ہو گئے۔زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ ایک روسی ترجمان SR ENviauE Kuzinin کی خدمات حاصل کر لیں اور پرائیویٹ ملاقاتوں میں اسلام ه الفضل ، ارونا / جولائی ۱۳۲۵ میشو له الفضل 10 فتح دسمبر همه