تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 30
کی آواز بلند کرناشروع کر دی اور نہایت حکیمانہ انداز سے عیسائی عقائد کی حقیقت واضح کرنے کے لئے حضرت مسیح علیہ السلام کے زندہ صلیب سے اُترنے اور کشمیر میں چلے آنے کا تذکرہ کرنے لگے سپین میں عیسائیت کے خلاف یہ پہلا علمی محاذ تھا جس کا ہسپانوی عیسائیوں سے کوئی معقول جواب نہ بن پڑتا تھا جس پر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس پر رکیک حملے شروع کر دیتے تھے۔دوسرے مغربی ممالک کی طرح یہاں بھی یہ اعتراض عام طور پر بڑی شد و مد سے کیا جاتا تھا کہ اسلام کی اشاعت تلوار سے ہوئی مبلغین اسلام نے اس خطرناک غلط فہمی کے ازالہ کی طرف بھی خاص توجہ دینا شروع کردی۔نجام دیں یہ ہی کی طرف سے جو سب سے پہلی رپورٹ مرکز میں نہیں وہ ما و و فار جولائی یہ کی تھی جس میں مندرجہ بالا ابتدائی سرگرمیوں کا ذکر کرنے کے بعد لکھا تھا کہ :- یہاں کے لوگ دوسرے لوگوں اور دوسری اقوام کی نسبت سخت بغض اور تعصب رکھتے ہیں۔یہاں کے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمارا ملک تمام ممالک سے بہر حال محمدہ اور بہتر ہے اور دیگر تمام ممالک کو متقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں خصوصاً مسلمانوں سے ایسا بغض ہے کہ انہیں دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے جس کا سب سے بڑا سبب یہاں کے پادریوں کی فتنہ پردازی ہے۔رعایا کی ضمیر پر پادریوں کا قبضہ ہے۔کوئی شخص اپنی مرضی کے مطابق کچھ نہیں کر سکتا حتی کہ دفتر میں کام کرنے کے لئے بھی ضروری ہے کہ چرچ سے کیتھولک ہونے کا سرٹیفیکیٹ حاصل کیا جائے یا اے ہسپانیہ میں احمدیہ سلم مشن کا پہلا شمر ان کے روسی ترجمان کا قبول روسی ترجمان کا قبول اسلام اسلام تھا جو شام کے وسط آخر میں حضرت مصلح موعود کے تھاجو و یا سیاسی اعجاز قبولیت دعا کے نتیجہ میں حلقہ بگوش اسلام ہوائیے ه الفضل ۱۵ از ظهور اگست ۱۳۲۵ به ص : نے مولوی کریم الہی صاحب ظفر کی رپورٹ میں اس خوش قسمت جو ان کا ذکر بایں الفاظ ملتا ہے :- یہ سعید نوجوان ملک روس کا اصل باشندہ ہے اس کا باپ زار کے زمانہ میں جنرل سٹاف میں کمانڈنٹ کے عہدہ پر مامور تھا۔یہ نوجوان خارکون میں پیدا ہوا۔انقلاب روس کے بعد اس کے باپ (باقی اگلے صفحہ میں )