تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 429
۴۲۶ یا محمود اللہ شاہ صاحب ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول کو یہ پیغام دے کر آئے تھے کہ وہ تین چار لڑکے اور ایک لالٹین دے کر جلدی بھیج دیں مگر دس بجے تک اس سنسان اور بے آب و گیاہ وادی میں ہم دونوں کے سوا اور کوئی انسان نظر نہ آتا تھا۔خاموشی اور ایک سنسان خاموشی سے کچھ تنگ آکر اور کچھ گھبرا کر میرے ساتھی نے فرمائش کی اختر بھائی کچھ سناؤ چنانچہ میں نے پہلے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کچھ اشعار اور پھر کچھ اپنے اشعار جو میں نے لڑک میں بیٹھ کر راستے میں لکھے تھے بآواز بلند شنائے آواز پہاڑوں سے ٹکرا کر گونج سی پیدا کر رہی تھی اور میں یہ تصور کر رہا تھا کہ جب ہمارا سالانہ جلسہ یہاں ہوگا تو اسی طرح ہمارے بزرگوں کی تقریریں اور ہمارے مؤذنوں کی تکبیریں ان پہاڑوں میں گونج پیدا کریں گی۔اور پھر اسی طرح ان تقریروں اور تکبیروں سے ایک دنیا میں گونج پیدا ہوگی۔یہ خیال آتے ہی دل پر ایک بے خودی کی سی کیفیت پیدا ہوگئی اور ہم دیر تک خاموش رہے۔یں نے عمر کے اعتبار سے قادیان کا ابتدائی زمانہ نہیں دیکھا یعنی وہ زمانہ جب کہ قادیان میں ابھی محتے نہیں بنے تھے لیکن میں حیران ہو رہا تھا کہ اللہ تعالی تاریخ کو ایک نئے دور میں سے گزار گرگزشتہ دور کا اعادہ کر رہا ہے۔چنانچہ یکس نے کہا دیکھیں مولوی صاحب قادیان کے ابتدائی دور کا ایک پہلو ہمارے سامنے رہے۔چاند ہنس رہا ہے اور ستارے مسکرا کر ہمیں دیکھ رہے ہیں دفعہ دور سے ہمیں ایک ہلکی روشنی دکھائی دی۔ہمارے سکول کے تین بچے ایک لالٹین ہاتھ میں لئے ہماری طرف قدم بڑھاتے چلے آرہے تھے تین بچے دو بنگال کے رہنے والے اور ایک سیکون کا رہنے والا اپنے وطن سے ہزاروں میل دور رات کے دنی بجے ایک سنسان وادی میں اپنے آقا کے خدام سے ملنے پہلے آرہے تھے۔جب، روشنی آئی توہم نے فیصلہ کیا کہ اس زمین پر سب سے پہلا خیمہ بغیر مزدوروں کی مدد کے اپنے ہاتھ سے لگایا جائے پنا نچہ میں نے اور مولوی محمد صدیقی صاحب نے ایک چھولداری کو درست کیا اور غیر کیسی کی مدد کے اس میدان کے وسط میں یہ چھولداری اپنے ہاتھ سے لگائی۔اس کے بعد ہم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں اور کچھ دیر بیٹھے باتیں کرتے رہے۔پر یہ ربوہ کی سر زمین پر پہلا خیمہ تھا جس کے نصب کئے بجانے کی سعادت قادیان کے دور رہنے والوں کو حاصل ہوئی۔تقریباً نصف شب گزرنے پر احمد نگر سے مکرم مولوی ابوالعطاء صاحب پر نسپل جامعہ احمدیہ کی طرف سے کچھ چپاتیاں اور کچھ ذال آئی جس کے متعلق معلوم ہوتا تھا کہ یہ ہر حال نہایت عجلت میں تیار کی