تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 430
۴۲۷ گئی ہے۔اس وقت اس دال روٹی نے جو لطف دیاوہ زندگی کے قیمتی اور پر تکلف لمحات میں بھی کم محسوس ہوئی ہے۔چونکہ صبح حضور کی تشریف آوری تھی اس لئے سائبانوں اور خیمہ جات کو درست کیا گیا اور انہی کے ڈھیر پر ہم دراز ہو گئے۔تمام رات بلا کھٹکے اور نہایت اطمینان اور سکون کے ساتھ ہم سوئے مجھے تو کچھ ہوش نہیں رہا البتہ مکرم مولوی صاحب نے فرمایا کہ دور سے کچھ گیدڑوں اور بھیڑیوں کی آوازیں آتی نہیں میں لیکن خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس نے بہر حال ہمیں ہر قسم کی اذیت سے محفوظ رکھا ہے لاہور سے ربوہ کے لئے ۱۹ تبوک ستمبر کو انہور سے ربوہ کے لئے دوسرا قافلہ اپنے ایسر 19 چوہدری ظہور احمد صاحب کی قیادت میں ۵ بجے شام روانہ ہوا دوسرے قافلہ کی روانگی رات گیارہ بجے کے قریب چنیوٹ پینچا اور رات سڑک پرگزار لے کے بعد دوسرے دن ساڑھے آٹھ بجے وارد ہوہ ہوا۔یہ قافلہ صدر انجین احمدیہ اور تحریک جدید کے مندریعہ ذیل چونتیس ۳ کارکنوں کو شتمل تھا :- پر نظارت علیا صدر انجین احمدیہ پاکستان محمد عبد الله منهاس صاحب۔میاں نوراحمد صاحب تعلیم و تربیت چوہدری عبد السلام صاحب اختر ایم۔اے۔مولوی بابر علی صاحب۔مددکار کار کو منظور احمد صاحب در امور عامه مولوی جلال الدین صاحب بہشتی مقبره منشی خلیل احمد صاحب۔غلام حیدر صاحب بیت المال چوہدری ظہور احمد صاحب دامیر قافله ) منشی مبارک احمد صاحب انور۔له الفضل الماء اکتوبر ۲۵ ه ؟ ۲ ۲۱۹۴۸ مولانا جلال الدین صاحب شمس ناظر اعلیٰ نے چوہدری صاحب موصوف کو لکھا کہ انجمن کے کارکن جو آج بجا رہے ہیں آپ اُن کے امیر قافلہ ہوں گے۔۳۴ کارکن انجمن اپنے ساتھ لاری میں لے جائیں ان کے کرایہ کے لئے مبلغ ایک سو بیس روپے نائب وکیل المال سے لے لیں۔ربوہ میں پہنچے کہ پہلے یے شامیانے وغیرہ لگوائے بھائیں۔دوسرا خط اختر صاحب (مراد عبد السلام صاحب اختر ایم۔اے۔ناقل ) کو دے دیں انہیں ربوہ میں منتظم اعلیٰ مقرر کیا گیا ہے وہ اپنے ساتھ جو منتظمین مناسب سمجھیں رکھ لیں۔16 خاکسار جلال الدین شمس ناظر اعلی ۱۹