تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 427
۴۲۴ دا اور ہم نے ابن مریم اور اُس کی ماں کو ایک نشان بنایا اور ہم نے اُن دونوں کو ایک اونچی جگہ پر پناہ دی جو ٹھرنے کے قابل اور بہتے ہوئے پانیوں والی تھی ) افتتاح ربوہ کے انتظامات کے لئے حضرت امیر الونی کی ہدایات کو فی الفور مل جب سر عملی جامہ پہنانے کے لئے ممبران صدر انجمن احمدیہ اور وکلاء ذمہ دار اصحاب کا تقرر تحریک جدید کا ایک مشتر کہ ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں افتتاج رہوں کے سلسلہ میں بعض ضروری انتظامات مختلف ذمہ دار اصحاب کے سپرد کئے گئے۔مثلاً خیموں اور چھو لداروں کو کرایہ پر لینے کا کام جناب چوہدری عبدالسلام صاحب اختر ایم۔اسے اور موادی محمد صدیق صاحب کے ذرہ ہوا۔ٹرکوں کی فراہمی کا انتظام مولوی ابو المنیر نور الحق صاحب دنا نظر آبادی اور خواجہ عبد الکریم صاحب کو سونپا گیا اور صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے عملہ میں سے فوری طور پر ربوہ بھجوائے جانے والے (ایک تہائی کارکنوں کی فہرست تیار کرنے پر مولوی عبد الرحمن صاحب انور (وکیل الدیوان ) اور قاضی عبد الرحمن صاحب مقرر کئے گئے اور تبلہ دن اتر انجمن و تحریک کو اطلاع دی گئی کہ کل جمعہ کی تعطیل نہ ہوگی اور دفاتر صبح 8 بجے سے دس بجے شب تک کھلے رہیں گے چنانچہ اس روز سب مرکزی دفاتر صبح سے رات تک، ان اختتامی انتظامات کی تیاری میں مصروف رہے۔لاہور سے زکوہ کے لئے 1 ار ماہ تبوک استمبر کو لاہور سے ربوہ میں خیموں اور پھولنا اریوں کو خب کرانے اور دیگر ضروری انتظامات کرنے اور بعد ازاں اس وادی تغیر پہلے قافلہ کی روانگی وی زد میں مقیم رہنے کےلئے دو قافلے وا کئے گئے۔ذی پہلا قافلہ جو چوہدری عبد السلام صاحب اخترایم۔اسے (نائب ناظر تعلیم و تربیت ) اور مولوی محمد صدیق صاب واقف زندگی کے علاوہ ایک مددگار کارکن، ایک ڈرائیور اور دو مزدوروں پر تمل تھالا نہور سے قریباً ایک بجے روانہ ہوا اور سات بجے شام کے قریب ربوہ کی مقدس سرزمین میں پہنچاتے ے اس پہلے قافلہ کی روانگی کے معا بعد مولانا جلال الدین صاحب شمسی ناظر اعلیٰ نے حضر بمصلح موعوض اختر صاحب اور مولوی محمد صدیق صاحب ۲۲ جیسے مختلف سائز کے اور ہم چھولداریاں اور آٹھ شامیانے لڑکی پر لے کر چلے گئے ہیں حضور نے فرمایا ہے کہ بڑا سیف ربوہ لے جایا جائے وہ بغیر ٹرک کے نہیں جاسکت اسکی صورت ہی ہے کہ ٹرک کرایہ پر لیا جائے اور اس کے ساتھ سنگر خانہ کا بھی کچھ سامان بھیج دیا جائے لیے حضور نے فرمایا : " درست ہے لیکں نے اس سے کب منع کیا ہے کہ شرک نہ لے جایا جائے کہ