تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 420
بعد جو کارکن عیال لے جانا چاہیے لے جاسکتا ہے اخراجات انجمن دے گی۔لاہور میں صرف دفتر میا سب کے ایک دتہ وار کرک اور ایک سیف رہنا چاہئیے جو کہ چندوں کی وصولی کا کام کرے اور حسب ہدایت نظارت علی پیشگی رقوم ادا کر ہے۔اندراجات کی تکمیل تمام و کمال چنیوٹ میں ہوا کرے گی۔سامان دفتر بھی جو خرید شده ہے آپ اپنے ساتھ لے جاسکتے ہیں بہتر ہو کہ ایک مال گاڑی کا انتظام کر لیا جائے تاکہ سب سامان بنا سکے ایکی مشورہ سے اندازہ کر لیں کہ ریل کی بجائے اگر ٹرک میں بآسانی اور بکفائت سامان جا سکے تو ٹرک ہیں لے جایا جائے۔عید عبد اللہ خان ناظر اعلی ۲۷ صدر انجمن احمدیہ اور تعمی کسی حضرت امیر المومنین جماعت کو مرکز پاکستان کی سیات کی اطلاع کے ارشادات کا تیل میں سرگرم عمل ہوچکی تھی اور بعض فصیلوں کا اعلان کہ اسی اثناء میں حضور کوئٹہ سے نفس نفیس لاہو تشریف لے آئے اور قدم قدم پر اسے اپنے تعمید مشوروں سے نواز نے اور ہر ضروری مسالہ میں براہ راست راہنمائی فرمانے لگے۔اس طرح تعمیر کمیٹی کی جد و بند میں اپنی توجہ سے ایک نئی حرکت پیدا کرنے کے بعد حضور نے ۱۰ - ماہ تبوک استمبر ۳۳۷۵ کے خطابہ بمعہ کے ذریعہ جماعت احمدیہ کو مرکز پاکستان کے لئے خریدا راضی کی پہلی بار فضل اطلاع دی اور اس کے ضروری مراحل پر روشنی ڈالنے کے بعد بعض گزشتہ تلخ تجربوں کے مد نظر اس نئی اراضی پر مکانات بنانے کے متعلق مندرجہ ذیل فیصلوں کا اعلان فرمایا :- ا۔مکانوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں رہنے دیا جائے گا۔قادیان میں لوگوں نے زمین خرید کر اُسے خالی ہی پڑا رہنے دیا اور مکانات وغیرہ نہیں بنائے تھے جس کی وجہ سے ہم پوری طرح حفاظت کا بندوبست نہ کر سکے ہمیں جو نقصان پہنچا اس کی تمام ذمہ داری انہیں لوگوں پر تھی یہ نقصان ان جگہوں کے پر ہو جانے کی صورت میں نہیں ہو سکتا تھا ہم نے آبادی کے اردگر و دیواریں بنانے کی کوشش کی مگر گورنمنٹ نے ہمیں ایسا کرنے سے روکا اور کہا کہ تم سٹرکوں کو روکتے ہو۔چونکہ اس کی مرضی تھی کہ مسلمان یہاں سے نکل جائیں اس نے چاہا کہ کسی قسم کی کوئی حفاظتی تدبیر نہ کی جائے۔اس تلخ تجر بے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کوئی بھی زمین خریدے اور مکان بنائے مکانوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہو گا اور جو مقررہ مدت میں مکان نہیں بنا سکے گا اس کی زمین کسی اور کو دے دی جائے گی جو جلد ہی