تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 421 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 421

۴۱۸ مکان بنا سکے۔اس طرح بیستی قلعہ کی صورت میں بدلتی جائے گی۔ہاں جس طرح کی زمین ہوگی اسے دوسری جگہ پر زمین دے دی جائے گی۔- زمین فروخت نہیں کی جائے گی بلکہ ٹھیکہ پر دی جائے گی اور اس کی اصل مالک صدر انجمن احمدیہ پاکستان ہی رہنے گی۔۳۔اس وقت زمین سو روپے فی کنال کے حساب سے دی جائے گی۔پچانش روپے بطور ہد یہ مالکانہ اور پچاس روپے شہر کی ضروریات کے لئے۔زمین نوے سال کے لئے ٹھیکہ پر دی جائے گی لیکن شرح کرایہ ہر تیس سال کے بعد بدلتی رہے گی جو کبھی پچاس فیصدی سے زیادہ نہ ہو گی۔زمین پر قبضہ قائم رکھنے کے لئے ہر خریدار سے ایک چھوٹی سی رقم بطور کرایہ وصول کی جائے گی بہت تھی ایک روپیہ فی کنال سالانہ اور دس مرلہ پر آٹھ آنے سالانہ اور یہ گرا یہ تین پیسے فی مرلہ ماہوار بتا ہے۔یہ گورنمنٹ کی نقل کی گئی ہے گورنمنٹ بھی پہاڑوں پر زمین ٹھیکے پر ہی دیتی ہے۔میں نے بھی ڈلہوزی ٹھیکہ پر زمین ہی لے کر کوٹھیاں بنائی تھیں۔4 کیسی واحد شخص کو دکان بنانے کی اسبازت نہیں دی جائے گی دکانیں کھلی طور پر سلسلہ کی ملکیت ہونگی ٹھیکہ پر لی ہوئی زمین میں صرف ہائشی مکان بنانے کی اجازت ہوگی کیونکہ بہت سی آوارگی دکانوں کے ذریعہ ہی پھیلتی ہے۔قادیان میں ہم دیکھتے تھے کہ آوارہ مزاج لوگ عموماً د کانوں پر بیٹھا کرتے تھے اور جب دوکانداروں کو ان کے منع کرنے کے لئے کہا جاتا تھا تو وہ مقابلہ کرنے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوتے تھے کیونکہ ان کی وجہ سے ان کی بکری زیادہ ہوتی تھی بہر حال اس سنتے قصبہ میں دکانیں که شخصوم ای۔کی ملکیت نہیں ہوں گی۔الفضل میں اعلان شائع ہونے کی تاریخ سے لے کہ ایک مہینہ تک پہد یہ مال کا نہ ایک سو روپیہ فی کنال لیا جائے گا اس کے بعد ہر سال یہ رقم بڑھتی جائے گی۔یہ میعاد پندرہ اکتوبر کوختم ہو جائے گی۔اس وقت تین سو تیس کنال اراضی کی درخواست آچکی ہے۔روشنی، پانی، سڑکوئی اور دیگر انتظامات کے لئے پانچ لاکھ کے اخراجات کا اندازہ ہے سکولوں کا لجوں پر بھی پانچ لاکھ کا اندازہ ہے۔تو دس لاکھ کے قریب مزید خرچ ہو گا اور وہاں بسنے والوں نے ہی ان سے فائدہ حاصل کرنا