تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 418
۴۱۵ اخاء چنیوٹ اور احمدنگ میں مرکزی ماحول کے امامان در راکتور میں بہت سے امین اسی وقت سے جبکہ نئے مرکز کی مجوزہ اراضی کے حصول کی جدوجہد استحکام کے لئے اہم ذیلی انتظامات کا آغاز ہوا چنیوٹ اور احمد نگر کو یکایک خاص اہمیت حاصل ہوگئی۔وجہ یہ کہ مرکزی ماحول کومستحکم کرنے کے لئے ان مقامات پر حضرت مصلح موعود کی خصوصی ہدایات کے مطابق نہایت اہم ذیلی انتظامات بروئے کار لائے گئے چنانچہ یہاں نہ صرف مہاجر احمدیوں کے لیسانے کی انتہائی کوشش کی گئی بلکہ شروع میں تعلیم الاسلام ہائی سکول ، مدرسہ احمدیہ و مجامعہ اپنے عبوری دور میں یہاں قائم ہوئے ازاں بعد ۲ احسان جون و کو حضرت اقدس نے ارشاد فرمایا کہ ۶۱۹۴۸ قادیان کی لائبریری کی کتابیں فی الفور چنیوٹ میں منتقل کر دی جائیں۔اس سلسلہ میں حضور نے ناظر اعلیٰ کو حسب ذیل ہدایات فرمائیں :۔دو چار روز کے اندر ایسا انتظام کیا جائے کہ چنیوٹ میں چند مکانات لے کہ ہماری لائبریریابی جو یہاں ہیں وہاں بھیجوائی جائیں۔فوراً ایک دو دن کے اندر کاریوں کا انتظام کر کے کتب بھجوائی جائیں۔لائبر اوردین وہاں چلے جائیں تین چار معتبر آدمی مقرر کر دیئے جائیں جو اپنے سامنے ان کو ہوا لگوائیں اور فهرستیں تیار کریں۔ہر فہرست پر دو آدمیوں کے دستخط ہوں گے کہ کوئی بد دیانتی نہ کر سکے۔ابھی فور لائبریریوں کو چیک کروایا جائے اور جوکتب اور اخبارات کے فائل کم ہوں ان کے متعلق قاویان لکھا جائے کہ آئندہ کنوائے میں انہیں بھیجوانے کی کوشش کریں۔آپ کے پاس ونس ہزار کی رقم محبت میں سامان خریدنے کے لئے منظور ہے آپ اس میں سے فوراً کتب کے لئے ٹرنک اور بیٹیاں بنوائیں اور ان کے فضل بھی۔کم از کم میں بیٹیاں انجانی و طول یونین کی ہوں اور پھر کتب پر مہریں لگائی جائیں۔ٹرنکوں پر چٹوں کی بجائے لائبریریوں کے نام سفیدہ وغیرہ سے لکھے جائیں۔دو پرائیویٹ لاریاں خرید لی جائیں۔ہمارا روپیہ لاہور میں نہیں رہنا چاہئیے جتنا زائد روپیہ ہو وہ کراچی کے بنک میں ہو اور یہاں زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ کافی ہے۔اصول یہ ہو کہ اگر EMERGENCY ہو تو اس وقت شیخو پورہ تک پہلا چکر ہو بلکہ شاہد کہ بھی