تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 387
۳۸۴ نام نہاد صیہونی حکومت قائم ہوگئی اور دنیائے اسلام کے سینہ میں گویا ایک زہر آلود خنجر پیوست کر دیا گیا۔اس نہایت نازک وقت میں جبکہ ملت اسلامیہ زندگی اور موت کی کشمکش سے دوچار تھی۔حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے عالم اسلام کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے ایک بار پھر پوری قوت سے بھنجھوڑا۔انہیں مغربی طاقتوں اور صیہونی حکومت کے در پردہ تباہ کن عزائم سے قبل از وقت آگاہ فرمایا اور اس فتنہ عظمیٰ کے منظم مقابلہ کے لئے نہایت مفید تجاویز پیش تمل ایک قابل عمل دفاعی منصوبہ پیش کیا۔چنانچہ حضور نے خاص اس مقصد کے لئے " انكفرُ مِلَةٌ وَاحِدَةً “ کے نام سے ایک حقیقت افروز مضمون سپر د قلم فرمایا جس میں دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے فوراً ایک پلید ظلام پر جمع ہونے اور اس کے خلاف سر دھڑ کی بازی لگا دینے کی زبر دست تحریک فرمائی۔ذیل میں الكُفْرُ مِلَة وَاحِدَةً کا مکمل متن بجنسہ نقل کیا جاتا ہے :- أعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّ سامير الكُفْرُمَلَةُ وَاحِدَةٌ وہ دن جس کی خبر قرآن کریم اور احادیث یہ سینکڑوں سال پہلے سے دی گئی تھی۔وہ دن جس کی خبر تورات اور انجیل میں بھی دی گئی تھی۔وہ دن جو مسلمانوں کے لئے نہایت ہی تکلیف وہ اور اندیش ناک بتایا جاتا تھا معلوم ہوتا ہے کہ آن پہنچا ہے فلسطین میں ہو دیوں کو پھر بسایا جا رہا ہے۔امریکہ اور روس جو ایک دوسری کا گلا کاٹنے پر آمادہ ہو رہے ہیں۔اس مسئلہ میں ایک بستر کے دو ساتھی نظر آتے ہیں۔اور عجیب بات یہ ہے کہ کشمیر کے معاملہ میں بھی یہ دونوں متحد تھے۔دونوں ہی انڈین یونین کی تائید میں تھے اور اب دونوں ہی فلسطین کے مسئلہ میں یہودیوں کی تائید میں ہیں۔آخر یہ اتحاد کیوں ہے ؟ یہ دونوں دشمن مسلمانوں کے خلاف اکٹھے کیوں ہو جاتے ہیں ؟ اس کے کئی جواب ہو سکتے ہیں مگر شاید ایک جواب جو ہمارے لئے