تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 388 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 388

۳۸۵ خوشکو بھی ہے زیادہ صحیح ہو یعنی دونوں ہی اسلام کی ترقی میں اپنے ارادوں کی پامالی دیکھتے ہوں جس طرح شیر کی آمد کی بو پا کر سکتے اکٹھے ہو جاتے ہیں شائد اسی طرح یہ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔شاید یہ دونوں ہی اپنی دوربین نگاہوں سے اسلام کی ترقی کے آثار دیکھ رہے ہیں۔شاید اسلام کا شیر جو ابھی ہمیں بھی ہوتا نظر آتا ہے بیداری کی طرف مائل ہے۔شاید اس کے جسم پر ایک خفیف سی کیپسی وارد ہو رہی ہے جو ابھی دستوں کو تو نظر نہیں آتی مگر دشمن اس کو دیکھ چکا ہے۔اگر یہ ہے تو حالی کا خطرہ مستقبل کی ترقی پر دلالت کر رہا ہے مگر ساتھ ہی مسلمانوں کی عظیم الشان ذمہ داریاں بھی ان کے سامنے پیش کر رہا ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ ایک ہی وقت میں فلسطین اور کشمیر کے جھگڑے شروع ہیں۔یہ عجیب بات ہے کہ کشمیر اور فلسطین ایک ہی قوم سے آباد ہیں اور یہ عجیب تو بات ہے کہ اس قوم کا ایک حقہ مسلمان ہو کر آن کشمیر میں مسلمانوں کی ہمدردی کھینچ رہا ہے اور دوسرا حصہ فلسطین میں مسلمانوں کے ساتھ زندگی اور موت کی جنگ یلو ٹکر لے رہا ہے۔آدھی قوم اسلام کے لئے قربانیاں پیش کر رہی ہے اور آدھی قوم اسلام کو مٹانے کے لئے قربانیاں پیش کر رہی ہے کشمیر کی جنگ میں بھی کا شریعنی کشمیری کا نام سننے میں آتا ہے اور فلسطین کی جنگ میں بھی کا شر ہر کا ذکر بار بار آرہا ہے۔اس کا شر کے نام پر شیر کا نام اثر رکھا گیا تھا جو آب بگڑ کر کشمیر ہو گیا ہے یا یہ کہ یہ کاشر ہے یعنی سیریا کی طرح۔حال ہی میں کشمیر میں ایک آزادی کا دن منایا گیا ہے جن میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کشمیری دل سے ہندوستان کے ساتھ ہیں۔اس مظاہرہ میں روس کے نمائندہ نے خصوصیت کے ساتھ حصہ لیا اور دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ کشمیر کے معاملہ میں روس ہندوستان کے ساتھ ہے۔کیوں ہے ؟ یہ تو مستقبل ثابت کرے گا۔ہے ! اسے دوست کے نمائندے نے ثابت کر دیا ہے کشمیر کا معاملہ پاکستان کے لئے نہایت اہم ہے لیکن فلسطین کا معاملہ سارے مسلمانوں کے لئے نہایت اہم ہے کشمیر کی چوٹ بالواسطہ پڑتی ہے۔فلسطین ہمارے آقا اور مولی کی آخری آرام گاہ کے قریب ہے جن کی زندگی میں بھی یہودی ہرقسم کے نیک سلوک کے باوجود بڑی بے شرمی اور بے حیائی سے ان کی ہرقسم کی مخالفت میں کرتے رہے تھے۔اکثر جنگیں یہود کے اُکسانے پر ہوئی تھیں۔کسرنی کو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے قتل کروانے پر انہوں نے ہی اُکسایا تھا۔خدا نے ان کا مونہہ کالا کیا مگر انہوں نے اپنے خبث باطن کا اظہار کر دیا۔غزوہ احزاب کی لیڈری ہو رہی کے ہاتھ میں تھی۔سارا عرب، اس سے پہلے کبھی اکٹھانہ