تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 385
۳۸۴ آج کل کے زمانہ میں ہر شہری کا روزانہ واسطہ پڑتا ہے مثلاً تار ٹیلیفون، وائرلیس، ہوائی جہاز اور پھر موٹر، ریل، وخانی جہاز اور جنگی اسلحہ کے متعلق سادہ ابتدائی معلومات داخل نصاب کئے جاسکتے ہیں۔کم ایکمیٹی ہنڈا اس بات کی موید ہے کہ بچوں میں ملک کی بنیادی صنعتوں کے ساتھ ابتداء سے ہی لگاؤ پیدا کرانے کی ضرورت ہے اور ہمارے خیال میں شروع میں اس کے لئے تین شعبوں کا انتخاب ضروری ہوگا یعنی (1) زراعت (۲) تجارت اور (۳) دستکاری۔ان تینوں کے متعلق ابتدائی عملی اور علمی معلومات کا مہیا کرنا ضروری ہے۔زراعت کی تعلیم کے لئے سکولوں میں ترقی یافتہ اصولوں اور عملی کام کی ٹریننگ کا انتظام ہونا چاہئیے تجارت میں در آمد و برآمد کے موٹے اُصول اور چیزوں کے خرید نے اور فروخت کرنے کے طریق بتائے جائیں اور دست کاری میں بعض عام مصنعتوں کی ابتدائی تعلیم شامل کی جا سکتی ہے۔۱۵۔ورزش کا سوال بھی نہایت اہم ہے اور قوم کی جسمانی ترقی اور محمتوں کی درستی پر بھاری اثر رکھتا ہے۔پس سکولوں میں اس کی طرف بھی واپسی توجیہ ہونی چاہیے کھیلیں ایسی رکھی جائیں جو چار افراض کو پورا کرنے والی ہوں راہ جسم اور اعصاب کی طاقت کو بڑھانے والی ہوں (۲) جسم میں پھرتی پیدا کرنے والی ہوں (۳) عقل کو تیز کرنے والی ہوں (۴) اور باہم تعاون کی روح کو ترقی دینے والی ہوں۔نیز کمیٹی ہزا کی رائے میں بچوں کو تین فنون کا سکھانا ضروری ہے جس کا سکول کی طرف سے انتظام ہونا چاہئیے۔الف - تیرنا - ب - سواری سائیکل کی یا گھوڑے کی یا اگر ممکن ہو تو موٹر کی بھی۔ج۔بندوق چلانا جس کے لئے ابتداء ہوائی بندوق اور بعد میں ۲۲ بور کی رائفل کلبیں جاری کی جاسکتی ہیں تاکہ ابتداء سے ہی بچوں میں فنون سپہ گری کا ملکہ اور شوق پیدا ہو۔۱۶۔بالآخر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ہم نے نصاب کے متعلق جو سفارشات کی ہیں ان میں اپنی تجاویز کو صرف پرائمری اور مڈل کی تعلیم تک محدود رکھا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر ہم نے کسی مضمون کے مڈل میں رکھے جانے کی سفارش کی ہے تو وہ ہائی کلاسز میں بھی نہیں رکھا جائے گا۔ہائی کلاستر کے نصاب کا معاملہ ہمارے مشورہ کے دائرہ سے خارج ہے اس لئے اس کے متعلق ہماری موجودہ تجاویز سے کوئی مثبت یا منفی استدلال کرنا درست نہیں ہوگا کیونکہ وہ حقیہ اپنی ذات