تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 384
PAT حالات کا عنصر کافی شامل ہونا چاہیئے مگر ضروری ہے کہ اُردو میں تکلف کے طریق پر اور غیر طبیعی رنگ میں عربی اور فارسی کے الفاظ نہ ٹھونسے بجائیں بلکہ اسے ایک زندہ چیز کی طرح طبعی رنگ میں ترقی کرنے کا موقع دیا جائے اور ابتدائی جماعتوں میں تو لازماً زبان بہت سادہ اور سلیس ہونی چاہیے۔اس کے علاوہ اُردو کو ریس میں سادہ اور موثر قومی اور اخلاقی تنظمیں بھی شامل کی جائیں۔ہماری کمیٹی یہ بھی سفارش کرتی ہے چونکہ عربی مسلمانوں کی مذہبی زبان ہے، قرآن شریف اور حدیث کو سمجھنے کے لئے عربی کا علم ضروری ہے اور اردو کی تکمیل کے لئے بھی عربی کافی اثر رکھتی ہے اس لئے مڈل کی پہلی جماعت سے عربی کی تعلیم لازمی قرار دی جائے۔ہماری کمیٹی پرائمری یا مڈل کی جماعتوں میں فارسی کے نصاب کے داخل کرنے کی تائید میں نہیں ہے کیونکہ اول تو فارسی کو ہمارے ملک یا ہمارے مذہب کے ساتھ اتنا گہرا تعلق نہیں ہے جتنا کہ اُردو یا عربی کو ہے، دوسرے بچوں کے دماغوں پر زیادہ زبانوں کا بوجھ ڈالتا کیسی طرح مفید نتائج پیدا کرنے والا نہیں سمجھا جا سکتا۔۔ہماری کمیٹی اِس بات کی سفارش کرتی ہے کہ انگریزی زبان کی تعلیم کو پرائمری اور مڈل کے نصاب سے گلی طور پر نمارج کر دیا جائے۔انگریز کے چلے جانے سے ہمارے لئے اس زبان کی وہ اہمیت نہیں رہی جو پہلے تھی اور کوئی وجہ نہیں کہ ایک غیرملکی زبان کے بوجھ سے اپنے بچوں کی ابتدائی تعلیم کو مشوش کیا جائے۔ا جغرافیہ ایک ضروری علم ہے اور لازمی ہونا چاہئیے۔اس کا پولیٹیکل اور طبیعی حصہ ہر دو نہایت ضروری اور مفید ہے۔۱- ریاضی ایک نہایت ضروری علم ہے اور خود قرآن شریف نے اِس کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا ہے پس اس پر زیادہ زور ہونا چاہیے۔یہ علم نہ صرف اپنی ذات میں مفید ہے بلکہ بچوں میں محنت اور استغراق اور صحیح الخیالی کا ملکہ پیدا کرنے میں بھاری اثر رکھتا ہے۔۱۳۔سائنس کے ساتھ بچپن سے ہی قومی بچوں کا لگاؤ پیدا کرنا ضروری ہے اور ہماری کمیٹی اس یات کی پر زور تائید کرتی ہے کہ شروع سے ہی اسباق الاشیاء وغیرہ کی صورت میں سائنس کی تعلیم کو داخل نصاب کرنا چاہیے۔علم طبیعات اور علم کیمیا کے ضروری مسائل سادہ اور دلچسپ رنگ میں اسباق الاشیاء کی صورت میں نصاب کا حصہ بنائے جا سکتے ہیں۔اسی طرح ایسی نئی ایجادات جن کے ساتھ