تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 383
جا سکتا ہے جس میں راست گفتاری، دیانت ، لین دین کی صفائی ، عہد کی پابندی، فرض منصبی کی ادائیگی، محنت، قربانی، عدل و انصاف، خالق کی محبت ، مخلوق کی ہمدردی وغیرہ بنیادی اخلاق کے متعلق سہل اور موثر طریق میں تعلیم دی گئی ہو۔(نوٹ) نصاب دین کے تعلق میں ہماری کمیٹی یہ تجویز بھی پیش کرتی ہے کہ کسی سرکاری سکول میں کسی اقلیت کے طلبہ کی تعداد معقول ہو اور اس طرح اقلیت کی طرف سے یہ مطالبہ ہو کہ اس کے لئے اس کے مذہب کی تعلیم کا نصاب مقرر کیا جائے تو اس کا انتظام بھی ہونا چاہیئے مگر یہ تصاب مینیہ تعلیم کا منظور شدہ ہونا چاہیے جو عمومی رنگ کا ہو جس میں اس پہلو کو مد نظر رکھا جائے کہ دوسرے مذہب پر حملے یا مناظرانہ مسائل نصاب میں داخل نہ ہو جائیں۔ہماری کمیٹی بڑی سختی کے ساتھ اس بات کو محسوس کرتی ہے کہ گزشتہ زمانے میں سب سے بڑا فتنہ تاریخ کے نصاب نے پیدا کیا ہے جس میں جھوٹی باتوں کو داخل کر کے اور بعض سچی باتوں کو غلط رنگ دے کر اور بہت سی سچی باتوں کو حذف کر کے بھاری فتنہ پیدا کیا گیا ہے۔کمیٹی ہذا سفارش کرتی ہے کہ تاریخ کے نصاب کو فوری طور پر بدلنے کی ضرورت ہے حسب ضرورت نئی کتب لکھائی جائیں جن میں اس قسم کے شر انگیز عنصر کو بالکل خارج کر دیا جائے اور صحیح اور مستند واقعات اچھے رنگ میں درج کئے بہائیں اور تاریخ کے کورس میں ذیل کے حصے شامل کئے بھائیں یعنی تاریخ ہندوستان میں میں اسلامی زمانہ بچہ زیادہ زور ہو۔تاریخ اسلام میں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح حیات مسلسل اور مربوط صورت میں درج ہوں اور دیگر اسلامی تاریخ کے صرف خاص خاص واقعات ہوں اور اس کے علاوہ تاریخ عالم پر ایک سرسری نظر ہو۔کمیٹی ہذا یہ بھی سفارش کرتی ہے کہ تاریخ، جغرافیہ کے مضمون کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کہ ایک مضمون کی صورت میں رکھنے کی کوئی خاص وجہ نہیں اور نہ ان میں کوئی ایسا غیر منفک واسطہ ہے کہ اس کی وجہ سے ان ڈومستقل مضمونوں کو لانہ گا اس لڑی میں پرو کر رکھنا ضروری ہو انہیں علیحدہ علیحدہ کر دیا ہماری کمیٹی کی رائے میں زیادہ مفید ہوگا۔ہماری کمیٹی اس بات کی پر زور مؤید ہے کہ ذریعہ تعلیم بلا توقف اُردو قرار دینا چاہئیے۔اُردو کا نصاب بھی کافی اصلاح سچا ہتا ہے۔اس میں دیگر مفید مواد کے علاوہ اسلامی تاریخ کے خاص خاص واقعات اور مشاہیر اسلام کے خاص خاص