تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 382
٣٧٩ کی سمجھی اور جو مقاصد اپنے مصالح کے ماتحت ضروری خیال کئے ان کے پیش نظر نصاب بنایا اور درسگاہیں جاری کیں مگر انگریز کے چلے جانے اور آزادی کے حصول اور پاکستان کے قیام کے بعد انگریز کی طے کی وٹی پالیسی اور انگریز کا جاری کیا ہوا نصاب ہماری ضرورتوں کو ہر گز پورا نہیں کر سکتا بلکہ یقینا وہ چین پہنوؤں سے ہمارے مقاصد کے خلاف اور متعنا و واقع ہوا ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ گلی تلور پر بدل دینے کے قابل ہے۔لاریب اس میں کئی باتیں مفید بھی ہیں جو بڑے لمبے تجربے کے بعد حاصل کی گئی ہیں۔پس دانش مندانہ پالیسی یہ ہوگی کہ تدریج اور آہستگی کے ساتھ قدم اٹھایا جائے اور سابقہ نصاب کے غیر مفید حصہ کو ترک کر کے ایسے مفید اضافوں کے ساتھ جو ہمارے موجودہ قومی مصالح کے لئے ضروری ہیں نیا نصاب مرتب کیا جائے۔ہماری کمیٹی نمبر اول پر یہ تجویز پیش کرنا چاہتی ہے کہ جدید نصاب میں دینیات اور اخلاقیات کے مضمون لازماً شامل ہونا چاہئیں کیونکہ یہ بات نہایت ضروری ہے کہ بچپن میں ہی ایمانی و اخلاق کا بیج بو دیا جائے تاکہ قوم کے نونہال بڑے ہو کر اپنے اخلاق اور دین کی بیبیا و اسلام کی دی ہوئی تعلیم پر قائم کر سکیں لیکن ہماری کمیٹی اس مشکل کی طرف سے آنکھیں بند نہیں کر سکتی کہ پاکستان میں مختلف اسلامی فرقوں کے لوگ پائے جاتے ہیں اور صحیح طور پر یا غلط ور پر ہر فرقہ کی طرف سے مطالبہ ہو گا کہ اس فرقہ کی مخصوص تشریح کے مطابق اسلامی تعلیم دی جائے اور اس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ دینیات کا نصاب خود ایک جھگڑے کی بنیاد بن جائے ہیں جہاں ہم دقیات کی تعلیم کو ضروری خیال کرتے ہیں وہاں ہمارا یہ بھی مشورہ ہے کہ اس قسم کے اختلاف کے سدباب کے لئے جس کی طرف او پر اشارہ کیا گیا ہے فی الحال پرائمری اور مڈل میں دینی تعلیم ایک ایسی اقبل اصولی تعلیم تک محدود ہونی چاہئیے جس میں اختلافات کا کم سے کم امکان ہو۔اور کمیٹی ہذا تجویز کرتی ہے کہ اقل نصاب پرائمری اور مڈل میں بصورت ذیل ہونا چاہیئے۔الف۔قرآن شریف ناظرہ بغیر تو جمہ کے۔ب۔قرآن شریف کی بعض چھوٹی سورتوں اور بعض قرآنی دعاؤں کا حفظ کرنا۔ج - پنج ارکان اسلام یعنی کلمہ طیبہ نماز - روزه - حج - زکوۃ کے ایسے بنیادی مسائل جن میں کیسی اختلافی مسائل کا دخل نہ ہو۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے مختصر سوانح - اسلامی اخلاق پر ایک مختصر رسالہ جو تصنیف کر دیا