تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 366 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 366

۳۶۳ سب کے گلے پر یکساں روانی دکھاتا رہا۔بھانڈا دیں گئیں توسب کی عصمتیں لٹیں توسب کی تو پھر کیا یہ سانحہ عظیمہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی نہیں ؟ عبرت حاصل کرنے کا اس سے بڑھ کر موقع کو نا آسکتا ہے؟ اس لئے ہم مسلمانان پاکستان سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ باہمی اختلافات کو فی الفور ختم کر کے ایک ایسا متحدہ محاذ قائم کریں جس کے ساتھ ٹکر انے والی طاغوتی طاقت پاش پاش ہو جائے گی یا اے اخبارہ احسان (لاہور) نے حسب ذیل ادارتی نوٹ شائع کیا :۔قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیجئے :۔مرزائی فرقے کے متعلق ہمارے ہو خیالات ہیں وہ قارئین کرام پر واضح ہیں لیکن ہمیں یہ جان کو بہت دکھ ہوا کہ پچھلے دنوں کوئٹہ میں مرزائیوں کے ایک جلسے کے خلاف مظاہرے کرتے ہوئے بعض لوگوں نے حد سے بڑھے ہوئے اشتعال کا ثبوت دیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک معزز مرزائی ڈاکٹر میجر محمود کو نہایت بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔اگر اختلاف رائے کا مطلب یہی لیا جانے لگے کہ ہر شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر جو چاہئے کہ گزرے تو اس کے نتائج مرزائیوں کے لئے نہیں عام مسلمانوں کے لئے (بھی) نہایت بھیانک ہوں گے اس لئے ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اس قسم کی ذہنیت کے خلاف شدید احتجاج کرے اور اس فتنے کو پھیلنے سے روکے۔مرزائی مسلمان ہوں یا نہ ہوں ہر حال وہ پاکستان کے شہری ہیں اور ایک شہری کی حیثیت سے ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت ہم سب پر لازم ہے یا ہے۔اخبار" انقلاب (لاہور) نے ڈاکٹر میجر محمود کا قتل کے عنوان سے مندرجہ ذیل ادارتی نوٹ لکھا:۔۲۰ اگست کا ذکر ہے کوئٹہ میں لٹن روڈ کے قریب عوام نے احمدیت کی مخالفت میں ایک جلسہ منعقد کیا اور جوش و خروش کے عالم میں چند احمدیوں کو زد و کوب کرنے لگے۔اس وقت ایک احمدی ڈاکٹر میجر محمود احمد وہاں سے گزرے تو یہ منظر دیکھ کر انہوں نے اپنی موٹر کار روک لی اور اس شور وشر کی وجہ دریافت کی۔اس پر حاضرین جلسہ نے اُن کی موٹر پر پتھر برسائے اور میجر صاحب کا تعاقب کر کے ان کے چھرا گھونپ دیا جس سے اُن کا انتقال ہو گیا۔یہ واقعہ صرف افسوسناک ہی نہیں بلکہ له الفضل سور تبوک استمبر هم له اخبار احسان" بحواله الفضل هم تبوك رستمبر ه : ۱۳۲۷ ۶۱۹۴۸