تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 365
وصہ کے لئے ضبط و نظم کے بھولے ہوئے سبق کو اپنا یا مختصر سے عرصہ کے لئے بنیان مرصوص بنے۔چند سانوں کے لئے امیر اور اطاعت امیر کو پورے طور پر نہ سہی ادھورے طور پر تو سمجھا تو خدا نے اپنے وعدے کے مطابق اس کی محنتوں کو ضائع نہ ہونے دیا اور اس کے اس عمل کا صلہ اس صورت میں دیا کہ اُسے ایک بار پھر حکمرانی کا موقع عطا فرمایا ہم سمجھتے ہیں کہ مسلمان کی سابقہ کا وشوں، اس کے گزشتہ ضبط و نظم کا میلہ اس سے زیادہ مل بھی نہ سکتا تھا لیکن اب اس کے سامنے ایک منزل ہے۔خدا نے اسے ایک بار موقع عطا فرمایا ہے کہ وہ جہاں گیری و جہاں بانی کی روایات کو زندہ کرے اپنے پیم عمل سے وقت کے قیصر و کسریٰ کی اکٹڑی ہوئی گردنیں خم کر سکے لیکن یہ سب کچھ اُس وقت ہو سکتا ہے جبکہ مسلمانان پاکستان زیادہ سے زیادہ ضبط و نظم، زیادہ سے زیادہ اخترت و مساوات سے کام لیں مسلمانوں کو ان تمام امور کا اب عملی تجربہ ہو چکا ہے۔سالہا سال کی غلامی کے بعد ان کی زنگ آلود ذہنیت میں جو چمک پیدا ہوئی ہے وہ اس عمل کا نتیجہ ہے جس کا مظاہرہ گزشتہ آٹھ سال میں کیا گیا اور اب ضرورت ہے کہ ہم اس چمک میں اتنی تیزی پیدا کریں کہ غیروں کی نگا ہیں چکا چوند ہو کر رہ جائیں اس لئے پھر یہی کہنا پڑتا ہے کہ مسلمانوں کو پہلے سے زیادہ ہمت پہلے سے زیادہ بلند حوصلگی اور ایثار و قربانی کا حامل بنا پڑے گا۔دیو بندی اور بریلوی کے قصے ختم کرنے ہوں گے۔احمدی اور غیر احمدی کا امتیاز مٹانا ہو گا منفی اور شافعی کے جھگڑوں کو خیر باد کہنا ہوگا، احرار اور خاکسار کی بیں ختم کر تی ہوگی یہی ایک صورت ہے جیسے اپنا کہ ہم خاک و طارق کی روایات کو زندہ کر سکتے ہیں۔ہمیں افسوس ہے کہ ابھی تک ہم اس مقام پر نہیں پہنچ سکے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ کوئٹہ میں ایک نوجوان ڈاکٹر کو چند جنونیوں نے قتل کر دیا۔اس کا جرم یہ تھا کہ وہ دو پارٹیوں کو جھگڑے سے منع کرنے کے لئے چلتا چلتا رک گیا یا یہ کہ وہ احمدی خیالات رکھتا تھا ہمیں احمدیوں کی وکالت منظور نہیں لیکن غیرمسلموں کے مظالم احمدی، غیر احمدی، شافعی منبلی، خاکسار میں تمیز روا نہیں رکھتے۔بہار کے قتل عام میں ایسے صدہا مسلمانوں کو شہید کیا گیا جو سالہا سال تک کانگرس کو وفادار رہنے کے سرٹیفیکیٹ دکھاتے رہے۔حال ہی میں حکومت مشرقی پنجاب نے مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی پشیخ حسام الدین اور سکندر مرزا جیسے ملت فروش اور کٹر کا نگریسی مسلمانوں کی جان کی حفاظت کا ذمہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔مشرقی پنجاب میں کسی مسلمان کا خاکساریا کا نگریسی یا احمدی ہونا اس کی جہان کو نہ بچا سکا۔غنڈوں کا خنجر