تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 367
۳۶۴ شرمناک ہے۔تحریک پاکستان کے دوران میں قائد اعظم کی حقیقت بینی اور روشن خیالی کی وجہ سے فرقہ پرستانہ رحجانات کا قلع قمع ہو گیا تھا چنانچہ حکومت پاکستان میں شیعہ اشتی ، احمدی ہر فرقے کے بزرگ شامل ہیں اور کبھی عامتہ المسلمین کی طرف سے ان کے عقائد کا سوال نہیں اُٹھایا گیا پھر خدا جانے بعض لوگ فرقہ پرستی کے جنون میں کیوں اس قدر سرشار ہو گئے کہ انہوں نے کوئٹہ میں فنڈ اپن اختیار کر کے پاکستان کے ایک قابل اور نیک ڈاکٹر کو محض اس لئے ہلاک کر دیا کہ وہ احمدی تھا۔ہماری حکومتیں اپنے سیاسی مخالفوں کی دار و گیر میں بے حد مصروف ہیں اور انہیں پاکستان کا دشمن قرار دے رہی ہیں حالانکہ پاکستان کے حقیقی دشمن وہ ہیں جو مذہبی فرقہ بندی کی بناء پر قتل و غارت کا ہنگامہ برپا کرنے میں مصروف ہیں۔اس قسم کے خطرناک رجحانات کو نہایت سختی سے دبانے کی ضرورت ہے۔حکومت پاکستان کو چاہیے کہ میر محمود احمد کے قاتلوں کو جلد سے جلد کیفر کردار تک پہنچانے کی کوشش کر ہے۔میجر صاحب مرحوم خان بہادر ڈاکٹر محمد بشیر اور پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب کے بھتیجے تھے ہمیں تمام افراد خاندان سے اس حادثہ میں دلی ہمدردی ہے۔اے اسی اخبار نے کئی ہفتہ بعد دوبارہ اس موضوع پر قلم اٹھاتے ہوئے لکھا:۔آج سے کئی ہفتے پیشتر کوئٹہ میں ایک نہایت قابل ، ہر دلعزیزیہ اور جوان ڈاکٹر محمود احمد کو بعض غنڈوں نے فرقہ پرستی کے ایک ہنگامہ میں قتل کر دیا۔حالانکہ اس کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ لوگوں کو لڑنے بھڑنے سے روک رہا تھا۔کوئٹہ میں اور پنجاب کے اکثر مقامات پر بھی ڈاکٹر محمود کے اس خونِ ناحق پر بے حد رنج و تاسف کا اظہار کیا گیا۔لیکن بے انتہار تعجب کا مقام ہے کہ آپ تک کوئٹہ پولیس نے اس سلسلہ میں کوئی گرفتاری تک نہیں کی حالانکہ یہ علوم کرنا کچھ بھی مشکل نہیں تھا کہ کون کون لوگ مرحوم پر قاتلانہ حملہ میں شریک تھے اور تھوڑی سی تفتیش قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے کافی تھی محکام بلوچستان کو اس معاملہ میں خاص تو قبہ سے کام لینا چاہیئے ورنہ ایسے قاتلوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور قانون و انتظام کا وقار خاک میں مل جائے گا۔کیا ہم امید رکھیں کہ پولیس جلد از جلد اپنا قرض ادا کرنے گئی۔کہے انقلاب ۲۹ اگست ۹۶۱۹۴۸ سه انقلاب ۲۰ اکتوبر ۱۹۴۸ء تجواله الفضل ۱۲۰ اکتوبر ۶۱۹۴۸