تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 18
IA پر قرآنی تعلیم کی اشاعت کے لئے مغربی ممالک بالخصوص یورپ میں شروع ہو چکی ہے۔اسلام کایہ عمل یورپ پر تحریک احمدیت کی طرف سے شروع کیا گیا ہے۔چنانچہ احمدیت کے مبلغ یورپ کے بیشتر ممالک میں اپنے مراکز قائم کر چکے ہیں۔حضرت احمد (علیہ الصلوۃ والسلام، تحریک احمدیت کے بانی ہیں۔انہوں نے وفات مسیح کا عقیدہ پیش کر کے اس تحقیق کا انکشاف فرمایا ہے کہ مسیح (علیہ اسلام ، صلیب پر فوت نہیں ہوئے تھے بلکہ بیہوشی کی حالت میں انہیں صلیب پر سے اتارا گیا اور پھر وہ عراق، ایران ، افغانستان سے ہوتے ہوئے تبت وہ ہندوستان میں آئے اور آخرسر شگر میں مقیم ہوگئے چنانچہ علہ خانیار سرینگر میں ایسی قبر بھی موجود ہے جو قبر مسیح کے نام سے مشہور ہے۔حضرت احمد (علیہ السلام نے اپنی کتاب مسیح ہندوستان میں میں اس انکشاف پر تفصیلی بحث کی ہے۔اس سلسلہ میں انہوں نے بیان فرمایا ہے کہ واقعہ صلیب سے ۷۲۱ سال قبل شاہ اسور یہود کے بعض قبائل کو سمریا میں قید کر کے لے گیا تھا۔ان میں سے ایک حصہ بالآخر ہندوستان میں آباد ہو گیا۔حضرت احمد (علیہ السلام) نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ افغان اور کشمیر کے قدیم باشندے در اصل اسرائیلی نسل سے ہیں چنانچہ اس کی تائید میں بعض قابل اعتماد بہترین کی آراء پیش کی گئی ہیں جن کی روشنی میں ان اقوام کے خدو خال و نقوش اور رسوم و عادات اس تھیوری کی تائید کرتے ہیں۔چنانچہ بعض عیسائی متفقین اس انکشاف میں دلچسپی لے رہے ہیں۔تحریک احمدیت کے موجودہ امام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العربني ہیں۔اسلامی تبلیغ کی عالمگر ہم انہی کی قیادت میں عمل میں آرہی ہے۔ان کا یہ دعوی ہے کہ تمام حقائق اور تمام صداقتیں خدا کے آخری اور اکمل کلام قرآن پاک میں موجود ہیں اور دونیا میں کوئی صداقت نہیں جو قرآن مجید میں موجود نہ ہو۔یورپ پر اس حملہ کی تیاری آج سے دس سال قبل شروع کی جا چکی تھی مگر لڑائی کی وجہ سے مجوزہ پروگرام ملتوی ہوتا چلا گیا۔لڑائی کے معا بعد اس غیر معمولی مہم کے سلسلہ میں اسلام کے مبلغ فرانس اٹلی سپین ، سوئٹزرلینڈ اور ہالینڈ وغیرہ پہنچ گئے۔چنانچہ اس تھوڑے عرصہ میں وہ ان ممالک میں اپنے مراکز باقاعدہ قائم کر چکے ہیں۔---