تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 19 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 19

(چوہدری مشتاق احمد صاحب با جوه امام لنڈن مسجد کی زیر نگرانی ایک انگریز نوسلم برائن آرچر ڈبرسٹل (انگلینڈ) جن کا اسلامی نام بشیر احمد ہے اسلامی علم پڑھ رہے ہیں انہیں اسلام کی تبلیغ کے لئے تیار کیا جا رہا ہے بشیر احمد آرچر قادیان سے لنڈن اس وقت بھجوائے گئے تھے جب قادیاں تقسیم ہند کے وقت ہندوستان میں شامل کیا گیا تھا اور اہل ت دیان زبر دستی وہاں سے نکالے جا رہے تھے۔اس وقت تک سپین اسلامی تجنید کے لحاظ سے زیادہ زرخیز ثابت ہو رہا ہے۔غالباً صدیوں کی شورش حکومت کے ورثہ و ترکہ کی وسعہ سے ! فرانس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ اسلامی تعلیم و تبلیغ کے لئے یہ ملک دنیا بھر میں سب سے زیادہ سنگلاخ ہے۔فرانس میں تبلیغ اسلام کا دشوارترین کام ملک عطاء الرحمان کے سپرد کیا گیا ہے۔وہ آجکل پیرس میں تقسیم ہیں اور حال ہی میں اپنی تبلیغی مہم کا آغاز کر چکے ہیں۔ملک عطاء الرحمن (جنہیں دیگر مسلمانوں کی طرح سگرٹ اور شراب سے مکمل پرہیز ہے ، کے نزدیک فرانس خاصہ دلچسپ تلک ہے۔باوجود اس کے مذہبی عقائد کی سختی سے پابند سی ان کے لئے فرانس کے مشہور عالم لذیذ کھانوں اور بے مثال شرابوں کے چکھنے میں سختی سے روک ہے۔جماعت احمدیہ ابھی تک تقسیم پنجاب کو خلاف انصاف و عدل ایک ظالمانہ فیصلہ سمجھتی ہے کہ جس کے ماتحت قادیان کو ہندوستان میں شامل کیا گیا ہے۔چنانچہ ان کے نزدیک انہیں انتہائی مظالم اور سختی کے ساتھ اپنے مقدس مرکز سے ہجرت پر مجبور کیا گیا ہے۔پندرہ ہزار سے بیس ہزار احمدی اپنے مرکز سے ہجرت کر کے پاکستان میں منتقل ہونے پر مجبور کر دئے گئے۔تمام مرکزی دفاتر و تنظیم کو وقتی طور پر لاہور میں قائم کیا گیا لیکن جہاں وہ اس ظلم کے خلاف مظاہری لحاظ سے ہر طرح احتجاج کر رہے ہیں وہاں ان کے نزدیک یہ ہجرت خدائی نوشتوں کے ماتحت ہے کہ جس کی پیش گوئی حضرت احمد د علیہ السلام) کے الہامات میں پہلے سے موجود تھی اور یہی نہیں بلکہ ان کا ایمان ہے کہ جس طرح یہ ہجرت پہلے سے آسمانی نوشتوں میں موجود تھی ان کے مرکز قادیان کی واپسی کا بھی خدائی وعدوں میں وضاحت سے ذکر ہے اور وہ ایک