تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 324
۳۲۴ رعایت دینے پر رضا مند ہوگا۔ہندوستان کی طرف سے اس بات چیت کا جواب امریکہ اور برطانیہ کی خواہشات کے مطابق دیا گیا۔چنانچہ مسٹر آئینگر کے امریکہ واپس پہنچتے ہی سیکیورٹی کونسل کی قضا پاکستان کے خلاف اور ہندوستان کے حق میں ہو گئی۔افغانستان کی سیاست : مرزا بشیر الدین محمود صاحب نے سیکیورٹی کونسل میں پاکستان کے وزیر خارجہ کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا " سر ظفر اللہ خان میرے عزیز بھی ہیں اور مرید بھی ہیں۔وہ ایک قابل آدمی ہیں لیکن اگر وسن اظفر اللہ خاں ہوں تو بھی کچھ فائدہ نہ ہوگا اور سیکیورٹی کونسل کا فیصلہ بین الاقوامی حالات کے مطابق ہو گا جو بظا ہر پاکستان کے خلاف معلوم ہوتے ہیں مرزا صاحب نے انکشاف کیا کہ میں ابھی ابھی صوبہ سرحد کے دورہ سے واپس آیا ہوں مجھے اِس دورہ میں نہایت ہی معتبر ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ امریکہ اور روس اپنی اپنی طرف سے افغانستان کو ساتھ ملانے کی انتہائی کوشش کر رہے ہیں۔افغانستان کو پٹرول کی ضرورت ہے اور وہ اُون باہر بھیجتا ہے۔روس نے افغانستان کی ضرورت کا پٹرول مہیا کرنے اور تمام اون خرید نے کا یقین دلایا ہے لیکن اس کے مقابلہ پر امریکہ نے روس کی نسبت چالیس فیصدی کم قیمت پر پٹرول نہیں کرنے اور ۲۰ فیصدی زیادہ قیمت پر اُون خریدنے کی پیشکش کی ہے۔اب پھر روس کی باری ہے لیکن افغانستان نے محض اِس خیال کی بناء پر کہ امریکہ اور برطانیہ ہندوستان کے حامی ہیں کشمیر کے بارے میں پاکستان کے خلاف روش اختیار کر رکھی ہے۔چنانچہ جو افغانی جہاد کشمیر میں حصہ لینے آئے تھے ان کو حکومت افغانستان نے معتوب گردانا ہے بہر حال اگر افغانستان اینگلو امریکن بلاک میں شامل ہو جائے اور ہندوستان بھی اسی بلاک میں ہو تو پاکستان کے لئے ایک عظیم الشان اُلجھن پیدا ہو جائے گی۔مسلمانوں کا فرض - مرزا بشیر الدین صاحب نے اپنے موضوع کی طرف رجوع کرتے ہوئے کہا محالات کچھ بھی ہوں پاکستان کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ہر قسم کے حالات کا مردانہ وار مقابلہ کریں بالکل اسی طرح جس طرح زندہ قوموں کے افراد کرتے ہیں ہمیں