تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 325 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 325

۳۲۵ نہ تو معمولی یا بڑی کامیابیوں پر خوش ہو کر بے فکر ہو جانا چاہئیے اور نہ ہی چھوٹی بڑی ناکامیوں پر دل چھوڑ دینا چاہئیے۔جو خطرات ہمارے سامنے ہیں، ان میں بانی اسلام صلے اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے مالی باقی مسلمانوں کے لئے صرف دو ہی مقام ہیں۔فتح یا شہادت اور مسلمانوں کو انہی دونوں میں سے ایک کے لئے تیار رہنا چاہیئے۔" مرزا صاحب نے اختر تمام تقریر پر مسلمانوں کو آزاد کشمیر اور قبائلی پٹھانوں کی عملی امداد کی طرف بھی توجہ دلائی جو اس وقت بالواسطہ پاکستان کی عظیم الشان خدمت انجام دے رہے ہیں۔جلسے کی صدارت ڈاکٹر تا ثیر صاحب نے کی جلسہ کے اختتام پر جلسہ گاہ کے باہر کچھ لوگوں نے قادیانیوں کے خلاف نعرے لگائے اور بار امنی پیدا کرنی چاہی۔پولیس نے معمولی سالاٹھی چارج کر کے لوگوں کو منتشر کر دیا۔نہ ہے انقلاب ۱۷ ایریل ۱۹۹۰ مت : ہ میاں محمد یوسف صاحب پرائیویٹ سیکرٹری نے همیار ۱۳ ماہ شہادت / اپریل هم سب کو ایک مکتوب میں حسب ذیل اطلاع لاہور بھیجی : :۔و لیکچر راولپنڈی۔کل شام ہے بجے حضور انور کا لیکچر نشاط سینما ہال میں ہوا۔ہال سامعین سے بھرا ہوا تھا اور لوگ آس پاس کی دیواروں کے ساتھ بڑی تعداد میں کھڑے تھے گیلری بھی مستورات سے پر تھی۔اندر لوگوں کی تعداد ۱۵۰۰ کے لگ بھگ تھی۔تقر یہ پونے آٹھ بجے سے سوا نو بجے تک جاری رہی۔حاضرین ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھے رہے۔معززین شہر کافی تعداد میں موجود تھے۔شن جج صاحب نے کہا کہ کوئی لمحہ بھی ایسا تقریر کے دوران میں نہیں آیا جس میں توجہ کسی اور طرف گئی ہو۔ہال کے باہر سڑک پر چند شریروں نے شور و غوغا شروع کر دیا۔بیان کیا جاتا ہے کہ کسی پٹھان کو کسی نے گمراہ کر کے اس بات پر آمادہ کیا کہ ڈگولی چلائے۔اس کی اطلاع ہمارے ایک انسپکٹر پولیس باجوہ صاحب کو ملی وہ اس وقت ہال کے باہر آئے اور انہوں نے موقعہ پر پہنچ کو پٹھان سے بات چیت کی لیکن اس کے ساتھ تین مولوی بھی تھے یا جو صاحب ان تینوں مولویوں کو الگ لے گئے مگر ابقیه حاشیه میرم