تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 323
۳۲۳ >> کی حمایت کی تھی کہ امریکہ تقیم فلسطین کا فیصلہ کر کے عالم اسلام کی ہمدردیاں کھو چکا تھا اور کسی نہ حاصل کرنا چاہتا تھا چنانچہ کشمیر انقلاب (لاہور) نے اس کامیاب لیکچر کی حسب ذیل رپورٹ شائع کی :- سیکیورٹی کونسل کا فیصلہ پاکستان کے خلاف ہو گا۔راولپنڈی (نامہ نگار خصوصی کے قلم سے ) ۵ار اپریل۔جماعت احمدیہ قادیان کے امام جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد نے آج یہاں نشاط سینما کے لئے بنائی ہوئی بلڈنگ میں تعلیم یافہ طبقہ کے ایک بڑے اجتماع کے سامنے تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی کو نسل کا فیصلہ پاکستان کے خلاف ہوگا۔اُن کی تقریر کا موضوع " موجودہ نازک وقت میں مسلمانوں کا فرض تھا۔انہوں نے موجودہ حالات پر فصل روشنی ڈالتے ہوئے مسلمانوں کو بتایا کہ وہ اس وقت جنگ کی سی حالت میں ہیں لہذا انہیں زمانہ امن کی تحریکات مزدور تحریک و غیرہ کھڑی کر کے یا ان میں حصہ لے کہ اپنی نوزائیدہ مملکت کے مستقبل کو کمزور نہیں کرنا چاہئیے انہوں نے حکومت کے ذمہ دار ارکان کو بھی نصیحت کی کہ وہ بدلے ہوئے حالات کے ساتھ اپنے۔طور طریقوں کو بدلیں اور ایسا رویہ اختیار کریں جو عوام کے لئے مثال ہو اور جس سے عوام یہ سمجھنے لگیں کہ ان سے قربانیوں کا مطالبہ کرنے والوں کی زندگیوں پر بھی اپنی حکومت بن جانے کا اثر ہوا ہے اور وہ اُن کے افسر نہیں بلکہ بہی خواہ اور بھائی ہیں۔کشمیر کے مسئلے کا تذکرہ کرتے ہوئے مرزا بشیر الدین صاحب نے بتایا کہ سیکیورٹی توسل ؟ کا فیصلہ پاکستان کے خلاف ہو گا۔اپنے اس خیال کی تشریح کرتے ہوئے انہوں نے کہا سیکیورٹی کونسل میں کشمیر پر بحث کے پہلے دور میں امریکہ نے اس خیال سے پاکستان ہے کی ہمدردی کر کے اُس نے اپنا مقصد حاصل کر لیا لیکن اس کے بعد بین الاقوامی سیاست کا رُخ بدل گیا۔عرب مجاہدین نے تقسیم فلسطین کو نا قابل عمل بنا دیا اور روس اور امریکہ کی آویزش کا خدشہ روز بروز زیادہ ہوتا چلا گیا۔اس وقت امریکہ اور برطانیہ نے مسٹر آئینگر کی معرفت ہندوستان سے کچھ ساز باز کی اور یہ حقیقت ہے کہ مسٹر آئینگر پاکستان کے متعلق بات چیت کرنے کے بعد امریکہ سے واپس نہیں آئے تھے بلکہ وہ امریکہ اور برطانیہ کی پیش کردہ شرائط پر گفت گو کرنے آئے تھے۔یہ شرائط اس مطلب کی تھیں کہ اگر روس اور امریکہ میں جنگ چھڑ جائے تو ہندوستان اینگلو امریکن بلاک کو اُن کی مطلوبہ